
سندوش کمار نے کہا کہ بجٹ میں مانگ کو بحال کرنے یا وہاں سرکاری اخراجات بڑھانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقتصادی سروے خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کھپت معاشی ترقی کو سہارا دے رہی ہے، لیکن اس کے باوجود بجٹ دیہی علاقوں کی قوتِ خرید مضبوط بنانے اور تنخواہ دار و متوسط طبقے کو کوئی بامعنی راحت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سی پی آئی رہنما نے سماجی شعبے کے لیے مختص بجٹ میں کٹوتی کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ شہری کارکنوں کے لیے کسی نئے معاشی پیکیج یا ترغیبی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔






