سی این جی بھی محفوظ ایندھن نہیں، دہلی کی فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ کا خطرہ

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 31, 2025365 Views


نائٹروجن آکسائیڈ کی زیادہ مقدار براہِ راست انسانی نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے، پھیپھڑوں کی صلاحیت کم کرتی ہے اور تیزابی بارش کا سبب بن سکتی ہے۔ سی پی سی بی کی 2011 کی ایک تحقیق پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ سی این جی بغیر ماحولیاتی نقصانات کے نہیں ہے، خاص طور پر ریٹروفٹڈ سی این جی انجن میتھین کے اخراج میں 30 فیصد اضافہ کرتے ہیں۔

کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ سی این جی کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جیسی گرین ہاؤس گیسوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جو عالمی حدت کو تیز کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سی این جی بھی پٹرول اور ڈیزل کی طرح ایک فوسل ایندھن ہی ہے۔

آخرکار سوال یہ ہے کہ جب پٹرول، ڈیزل اور سی این جی تینوں ہی خطرناک ہیں تو متبادل کیا ہے؟ دنیا کو توانائی کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور جدید ترقی انجنوں کے بغیر ممکن نہیں۔ بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر یہ نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ بجلی کی پیداوار بھی، چاہے وہ کوئلے، پانی یا ایٹمی ذرائع سے ہو، ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔

سی این جی سے نکلنے والی نائٹروجن آکسائیڈ اب انسانی زندگی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم جدیدیت کے نام پر ان خطرات کو ابتدا میں نظرانداز کرتے ہیں، جو بعد میں بھیانک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ فطرت کے خلاف جا کر توانائی، ہوا اور پانی کا کوئی متبادل ممکن نہیں۔ فطری حدود سے تجاوز ہمیشہ انسان کے لیے نقصان ہی لاتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...