
ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ بجرنگ دل کے کچھ کارکن کوٹ دوار میں ایک کپڑوں کی دکان کے نام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ دکان ایک مسلم تاجر کی ہے جو تقریباً تیس برس سے اسی نام سے کاروبار کر رہے ہیں۔ کارکن دکان کے نام میں شامل لفظ ’بابا‘ پر اعتراض کرتے ہوئے نام بدلنے کا دباؤ بناتے ہیں اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اسی دوران دیپک موقع پر پہنچتے ہیں۔ وہ دکان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی اس تنازعہ سے ان کا کوئی ذاتی مفاد جڑا ہے لیکن وہ ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر مخالفت کرتے ہیں۔ جب ان سے شناخت پوچھی جاتی ہے تو وہ خود کو ’محمد دیپک‘ بتاتے ہیں۔ اس جواب کا مقصد کسی مذہبی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ اسی سوچ کو چیلنج کرنا تھا جو نام اور شناخت کو مذہب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھتی ہے۔ دیپک دراصل یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ ملک کسی ایک مذہب یا ہجوم کی مرضی سے نہیں بلکہ آئین اور برابری کے اصولوں سے چلتا ہے۔





