اترپردیش کے بریلی-پیلی بھیت ہائی وے پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جسے سن کر ہر کوئی حیران ہے۔ اب تک سڑک پر موجود گڑھوں کی وجہ سے لوگوں کی جان جانے کی خبریں آتی رہتی تھیں، لیکن یہاں گڑھے کی وجہ سے ایک خاتون کی تقریباً جا چکی جان لوٹ آئی ہے۔ خاتون کو ڈاکٹروں نے ’برین ڈیڈ‘ (دماغی طور پر مردہ) قرار دیتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ وہ صرف چند گھنٹوں کی مہمان ہیں اور انہیں گھر لے جانے کے لیے ڈسچارج کر دیا تھا۔ گاڑی سے گھر آتے وقت سڑک پر موجود گڑھے کی وجہ سے ایسا جھٹکا لگا کہ ان کی سانسیں چلنے لگیں اور جسم میں حرکت بھی تیز ہو گئی۔ دوبارہ خاندان والے اسپتال لے کر بھاگے، جہاں 10 روز تک چلے علاج کے بعد اب خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔
واضح رہے کہ پیلی بھیت کی رہنے والی وینیتا شکلا جوڈیشل کورٹ کے کاپی سیکشن میں سینئر اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ 22 فروری کی شام کام کرتے وقت انہوں نے بلڈ پریشر (بی پی) کی دوا کھائی، اس کے بعد وہ اچانک بے ہوش ہو گئیں۔ اہل خانہ نے انہیں فوری طور پر پیلی بھیت کے ہی سرکاری اسپتال لے کر گئے، جہاں حالت تشویشناک دیکھتے ہوئے انہیں ریفر کر دیا گیا۔ اہل خانہ وینیتا کو لے کر بریلی کے ایک بڑے اسپتال پہنچے، وہاں وینٹی لیٹر پر رکھنے کے بعد بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
بریلی کے اسپتال میں 2 دنوں تک چلے علاج کے بعد ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وینیتا ’برین ڈیڈ‘ ہو چکی ہیں اور ان کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔ 24 فروری کو انہیں ’نو ہوپ آف سروائیول‘ (جینے کی کوئی امید نہیں) کے ساتھ اسپتال سے ڈسچارچ کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ وہ اب کچھ گھنٹوں کی ہی مہمان ہیں۔ وینیتا کے شوہر کلدیپ کمار شکلا بوجھل دل کے ساتھ اپنی اہلیہ کو ایمبولینس میں گھر واپس لے جا رہے تھے۔ گھر پر آخری رسومات کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی تھیں۔
کلدیپ کے مطابق ان کی سانسیں تھم چکی تھیں اور دل کی دھڑکن نہ کے برابر تھی۔ اسی دوران بریلی-ہریدوار ہائی وے پر حافظ گنج کے پاس ایمبولینس ایک گڑھے سے گزری، جس کی وجہ سے ایمبولینس کو زوردار جھٹکا لگا۔ کلدیپ کا کہنا ہے کہ اس جھٹکے کے اگلے ہی لمحے وینیتا کی سانسیں اچانک معمول کے مطابق چلنے لگیں۔ کچھ دیر بعد ایک اور جھٹکا لگا تو جسم میں بھی کچھ حرکت ہوئی۔ انہوں نے فوراً اس کی اطلاع گھر پر فون کے ذریعہ دی اور آخری رسومات کی تیاری روک دی گئی۔
وینیتا کے جسم میں حرکت دیکھ کر شوہر انہیں لے کر پیلی بھیت کے نیورو اسپتال پہنچے۔ وہاں علاج شروع ہوا تو آہستہ آہستہ ہاتھ-پیر بھی حرکت کرنے لگے اور سانسیں معمول کے مطابق چلنے لگیں۔ تقریباً 10 روز تک چلے علاج کے بعد وینیتا مکمل طور سے صحت یاب ہو گئیں اور گھر بھی آ گئیں۔ وہاں کے نیورو سرجن ڈاکٹر راکیش سنگھ نے بتیا کہ جب وینیتا کو لایا گیا تھا تو ان کی حالت انتہائی نازک تھی، لیکن انتہائی نگہداشت کے بعد ان کی صحت میں بہتری آنے لگی۔ وینیتا کے اس طرح سے موت کو شکست دے کر لوٹنے سے ایک طرف خاندان والے خوش ہیں تو دوسری طرف اسے ’قدرت کا کرشمہ‘ ہی مان رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ کیسے ایک حادثہ کی وجہ بننے والا ’گڑھا‘ کسی کے لیے زندگی بخشنے والا بن گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































