
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان قوانین کے تحت ایسے ضابطے شامل کیے گئے ہیں جو کسی فرد کے مذہبی انتخاب کو مشکوک بنا دیتے ہیں اور ریاستی مداخلت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے عبوری راحت کی بھی مانگ کی ہے، جس کے تحت پولیس یا ریاستی انتظامیہ کو ان قوانین کے تحت کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکے جانے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا استعمال خاص طور پر اقلیتی برادریوں، بالخصوص عیسائیوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے خلاف کیا جا رہا ہے اور جھوٹے یا بے بنیاد الزامات کے ذریعے ہراسانی میں اضافہ ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے ابتدائی ریمارکس میں کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر سماعت دیگر عرضیوں سے جڑا ہوا ہے، جن میں مختلف ریاستوں کے اسی طرح کے قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے بتایا کہ اس پورے معاملے کی سماعت تین ججوں کی بنچ کرے گی، تاکہ اس حساس مسئلے کے تمام آئینی، سماجی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا جا سکے۔





