
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ٹریبونل رفارمز ایکٹ 2021 پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے اس کی کئی بنیادی اور مؤثر دفعات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون نہ صرف عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس سے طاقتوں کی تقسیم کے آئینی اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کے طرزِ عمل پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔
عدالت نے کہا کہ جو دفعات پہلے بھی کالعدم قرار دی جا چکی تھیں، انہیں معمولی ردوبدل کے ساتھ دوبارہ قانون میں شامل کرنا عدالتی فیصلوں کی توہین ہے۔ چیف جسٹس گوئی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ حکومت نے بغیر کسی اہم اصلاح کے سپریم کورٹ کے پابند فیصلوں کو نظر انداز کیا، جس سے نہ صرف ٹریبونل میں ہونے والی تقرریاں متاثر ہوئیں بلکہ ان کے نظم و نسق اور مدتِ کار پر بھی منفی اثر پڑا۔ عدالت کے مطابق یہ طرزِ قانون سازی آئینی قدروں کے منافی ہے۔






