
یہ فیصلہ جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے سماعت کے دوران اس معاملے کو نہایت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دینا آسان نہیں تھا مگر ایسے حالات میں انسانی وقار اور مسلسل تکلیف کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ جسٹس پاردیوالا نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے اور عدالت اس نوجوان کو طویل اذیت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی۔ ان کے مطابق اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جہاں آخری فیصلہ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
عدالت نے ہریش رانا کے خاندان کی تعریف بھی کی اور کہا کہ ان کے اہل خانہ نے گزشتہ برسوں میں غیر معمولی صبر اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ عدالت کے مطابق کسی سے حقیقی محبت کا مطلب یہی ہے کہ مشکل ترین وقت میں بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا جائے۔ ہریش کے اہل خانہ نے برسوں تک ان کی دیکھ بھال جاری رکھی اور ہر ممکن علاج کرایا۔






