’سُکھنا جھیل کو اور کتنا سکھاؤ گے؟‘، اراولی معاملہ پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا تلخ سوال

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 21, 2026362 Views


سپریم کورٹ نے چنڈی گڑھ کی تاریخی سُکھنا جھیل کی حالت زار پر ہریانہ حکومت کو متنبہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت سے جھیل کو ہوئے نقصان پر فکر ظاہر کی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

سپریم کورٹ میں آج اراولی معاملہ پر سماعت کی گئی۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی سُکھنا جھیل کے خشک ہونے پر اپنی شدید فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے سخت انداز اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ سے سوال کیا کہ ’سُکھنا جھیل کو اور کتنا سکھاؤ گے؟‘ عدالت عظمیٰ نے سُکھنا جھیل کے خشک ہونے کو ناجائز تعمیرات سے جوڑ کر دیکھا۔

سپریم کورٹ نے چنڈی گڑھ کی تاریخی سُکھنا جھیل کی حالت زار پر ہریانہ حکومت کو سخت تنبیہ کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت سے جھیل کو ہوئے نقصان پر فکر ظاہر کی۔ عدالت نے ماحولیات سے منسلک ٹی این گودابرمن معاملہ میں یہ تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے گزشتہ غلطیوں کو نہ دہرانے کی ہدایت دی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے ہریانہ حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسران اور بلڈر مافیا کی ملی بھگت سے سُکھنا جھیل پوری طرح سے برباد ہو گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’’افسران کی ملی بھگت سے بلڈر مافیا انتہائی سرگرم ہیں، آپ سب سُکھنا جھیل کو کتنا خشک کر دیں گے، آپ نے جھیل کو پوری طرح سے برباد کر دیا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سُکھنا جھیل چنڈی گڑھ میں شیوالک پہاڑیوں کے نشیب میں موجود ہے۔ یہ ایک مشہور جھیل ہے، جسے ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے اور وہاں جانا چاہتا ہے۔ ایک طرح سے یہ جھیل چنڈی گڑھ کی شناخت ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے اس کی حالت دگر گوں ہے۔ اس کے آس پاس کے علاقے پر قبضہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس پر فکر ظاہر کی ہے۔ عدالت کا یہ تلخ تبصرہ نہ صرف حکومت کے لیے ہے، بلکہ مقامی انتظامیہ کے لیے بھی ہے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...