
جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سابقہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ فریقین تشریح میں اختلاف رکھ سکتے ہیں، لیکن تقریر کے اصل الفاظ پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اسے تقریروں کا حقیقی اور مستند متن درکار ہے۔
سونم وانگچک کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا تھا کہ سرکاری چارٹ میں شامل بعض بیانات کا کوئی وجود نہیں ہے اور حراستی حکم غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ معاملے پر آج تفصیلی سماعت متوقع ہے۔





