سوشل میڈیا ٹرینڈز ہمارے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں، جبکہ روزمرہ کی سفاکی کا کوئی ہیش ٹیگ نہیں ہے !

AhmadJunaidJ&K News urduApril 6, 2026360 Views


فوٹوگرافر جولیا برولیوا کے ’گلابی ہاتھی‘ فوٹو شوٹ سے متعلق معاملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معمول تصور کی جاتی ہیں، اور ہمارا غم و غصہ کچھ خاص واقعات پر ہی نکلتا ہے۔ گھنٹوں تک اونٹ یا ہاتھی کی سواری، پنجرے میں قید پرندے، شادی کی تقریبات میں لگام سے بندھے لنگڑاتے اور بعض اوقات زخمی گھوڑوں کو بھی ہمدردی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

فوٹو بہ شکریہ: انسٹاگرام/ جولیا برولیوا

گزشتہ دنوں انسٹاگرام یا فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ہم سب نے ایک گلابی ہاتھی کو بار بار دیکھا، جس پر اسی گلابی رنگ میں رنگی ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ یہ گلابی ہاتھی کیا تھا؟

یہ ایک آرٹ انسٹالیشن تھا، جو بارسلونا (اسپین) کی رہنے والی ٹریولنگ آرٹ فوٹوگرافر جولیا برولیوا کی آرٹ سیریز ’پنک سٹی‘ کا ایک حصہ تھا۔ جولیا نے اس سیٹ اپ میں ہاتھی اور ایک ماڈل کی کچھ تصویریں اتاریں اور چند ماہ بعد انہیں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیا۔

حال ہی میں اس ’گلابی ہاتھی‘ کی تصویروں نے لوگوں میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ تصویریں وائرل ہو ئیں، بہت سے لوگوں نے اسے جانوروں کے ساتھ سفاکی قرار دیا، اور اسی ہلچل کے دوران جب اس ہاتھی ’چنچل‘ کی موت کی خبر سامنے آئی تو معاملہ مزید حساس اور متنازعہ ہو گیا۔

پہلی نظر میں یہ واقعہ واضح طور پر سفاکی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر ہم اسے ذرا گہرائی سے دیکھیں تو یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معمول سمجھ لی جاتی ہیں، مگر ہمارا غم و غصہ کچھ مخصوص واقعات پر ہی باہر نکلتا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ جس رنگ سے ہاتھی کو رنگا گیا تھا، وہی رنگ ایک انسانی ماڈل پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔ راجستھان سمیت ہندوستان کے کئی حصوں میں ہاتھیوں کو سجانے اور رنگنے کی روایت پہلے سے موجود ہے۔ اب تک ایسا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ہاتھی کی موت اسی رنگ کی وجہ سے ہوئی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ موت قدرتی وجوہات سے ہوئی ہو۔ ایسے میں صرف اس ایک واقعہ کو سفاکی کا محور  بنا دینا اصل مسئلے کو محدود کر دیتا ہے۔

ہاتھی کی سواری سے پریشانی کیوں نہیں؟

جہاں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں ’ہاتھی گاؤں‘ جیسی سہولیات موجود ہیں، جہاں بڑی تعداد میں ہاتھی رکھے جاتے ہیں اور انہیں بنیادی طور پر سیاحوں کی تفریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ہاتھیوں کی پیٹھ پر بھاری کاٹھی یعنی ہودا باندھا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 150 سے 200 کلوتک ہوتا ہے، اور پھر سواری کے وقت اس پر 2 سے 4 افراد بیٹھتے ہیں۔ اس طرح کل وزن 400 سے 600 کلو تک پہنچ جاتا ہے۔

ہاتھی یقیناً طاقتور ہوتے ہیں، لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی اس طرح کا بار اٹھانے کے لیے نہیں بنی ہوتی۔ طویل عرصے تک یہ سب برداشت کرنا ان کے لیے شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ ہودے کا مسلسل استعمال ان کے جسم پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جس سے مستقل نقصان اور خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح، کاٹھی کی رگڑ سے جلد کے نیچے تک زخم بن جاتے ہیں، سوجن آ جاتی ہے، اور کئی بار یہ زخم دیر تک ٹھیک نہیں ہوتے۔ مسلسل وزن ڈھونے سے درد مستقل ہو جاتا ہے، جس سے ہاتھی لنگڑانے لگتے ہیں اور ٹھیک سے چل بھی نہیں پاتے۔ ایسے ہاتھیوں میں گھاؤ اور چوٹیں بہت عام ہو جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ مسلسل بندھن اور کنٹرول میں رکھنے سے ان میں ذہنی دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ان کے رویے میں تبدیلی آتی ہے اور بعض اوقات وہ جارح بھی ہو جاتے ہیں۔

بات صرف ہاتھی تک محدود نہیں

اگر اس پورے معاملے کو صرف ہاتھیوں تک محدود نہ رکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ سفاکی ہمارے معاشرے کے کئی حصوں میں ہے۔ شادیوں میں گھوڑوں کا استعمال روایت کے طور پر ہوتا ہے، لیکن وہی گھوڑے تیز روشنی، شور، پٹاخوں اور ہجوم کے درمیان گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے منہ میں کسی ہوئی لگام اور جسم پر بھاری سجاوٹ ان کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ کئی بار وہ تھکن اور خوف کی وجہ سے گر بھی جاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ سب ہمارے لیے معمول کا حصہ بن چکا ہے۔

اسی طرح اونٹوں کا استعمال صحرائی سیاحت میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، جہاں وہ شدید گرمی، کم پانی اور مسلسل کام کے درمیان زندگی بسر کرتے ہیں۔ بندروں کو کرتب سکھانے کے لیے انہیں ڈر اور مار پیٹ کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے اور چھوٹے بندھن میں رکھا جاتا ہے۔ سانپوں کے ساتھ تو اس سے بھی برا سلوک ہوتا ہے، ان کے دانت توڑ دیے جاتے ہیں یا ان کا زہر نکال دیا جاتا ہے تاکہ وہ محفوظ نظر آئیں، لیکن اس عمل میں وہ اکثر مر جاتے ہیں یا بیمار ہو جاتے ہیں۔

کئی پرندوں جیسے طوطے، مینا اور اُلو کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی فطری اُڑان سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بیلوں اور سانڈوں کو مقابلوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جہاں انہیں مشتعل کرنے کے لیے اکثر پرتشدد طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں جہاں پالتو جانوروں کے ساتھ لاپرواہی برتی جاتی ہے، انہیں مناسب خوراک، علاج یا دیکھ بھال نہیں ملتی۔

ان تمام مثالوں میں ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انسان اپنی تفریح، سہولت اور فائدے کے لیے جانوروں کی تکلیف کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ چونکہ یہ سفاکی ہمیشہ واضح طور پر نظر نہیں آتی، اس لیے یہ ہمیں زیادہ متاثربھی نہیں کرتی۔ لیکن جیسے ہی کوئی ایک بصری واقعہ سامنے آتا ہے، ہمارا غصہ اچانک بڑھ جاتا ہے۔

اس پورے معاملے میں ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ جولیا کو سوشل میڈیا پر جس طرح کی گالیاں، دھمکیاں اور توہین آمیز تبصرے ملے، وہ بالکل غلط ہیں، خاص طور پر اس وقت جبکہ ابھی تک یہ ثابت بھی نہیں ہوا کہ ہاتھی کی موت اسی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ ایک بہت آسان ہدف ہے، جہاں پوری حقیقت جانے بغیر جو سامنے دکھائی دیتا ہے اسی کو مورد الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

’نمائشی‘ غصہ کیوں؟

ایسے معاملات میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف ہم خود ان شادیوں اور تقریبات کا حصہ بنتے ہیں جہاں ہاتھیوں پر بارات نکالی جاتی ہے، انہیں رنگا اور سجایا جاتا ہے، اور ہم خود ان پر بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہی چیز کسی دوسرے تناظر میں ہوتی ہے، خاص طور پر کسی غیر ملکی فنکار سے متعلق معاملہ ہو، تو اچانک ہماری ہمدردی بیدار ہو جاتی ہے۔

ہندوستان میں جانوروں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں جیسے پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1960 اور وائلڈ لائف پروٹیکشن قانون 1972، لیکن ان پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں ہوتا۔ غیر قانونی قید، استحصال اور جانوروں سے زبردستی کام لینا آج بھی جاری ہے۔ یہ بات کئی بار کہی جا چکی ہے اور بار بار کہنا ضروری ہے کہ صرف قوانین کا ہونا کافی نہیں، ان کا سختی سے نفاذ بھی ضروری ہے۔

اس معاملے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ لوگوں نے اصل ذمہ داروں سے سوال پوچھنے کے بجائے اپنا غصہ ایک آسان ہدف پر نکال دیا۔ سوال ان اداروں پر اٹھنا چاہیے تھا جو ہاتھیوں کی دیکھ بھال اور استعمال کے لیے ذمہ دار ہیں، جیسے سرکاری نظام، محکمہ جنگلات اور انتظامی ڈھانچہ۔ لیکن اس کے بجائے ایک فرد کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اصل مسئلہ پس منظر میں چلا گیا۔

میرے ذاتی تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن غصہ اور زمینی سچائی مختلف ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جو لوگ جولیا پر تنقید کر رہے تھے اور انہیں ٹرول کر رہے تھے، انہی میں سے کچھ لوگوں کی پروفائل پر ایسی شادیوں اور تقریبات کی تصویریں تھیں جہاں ہاتھیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے وہ تصویریں ہٹا دیں، لیکن اس سے سچائی بدل نہیں جاتی۔

ہر طرح کی سفاکی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت

ایک وائلڈ لائف ریسکیور کے طور پر میں نے کئی بار زخمی کتوں، بلیوں اور سانڈوں کو انتہائی خراب حالت میں دیکھا ہے۔ کئی بار سانپوں کو بچانے کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن جب تک میں پہنچتا ہوں، انہیں مار دیا جاتا ہے۔ شادیوں میں لنگڑاتی ہوئی گھوڑی کے پاس لوگوں کو ناچتے دیکھنا بھی عام بات ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ بارہا ثابت ہوا ہے کہ ہماری حساسیت اکثر صرف دکھاوے تک محدود رہتی ہے۔

حقیقت میں ’گلابی ہاتھی‘ کوئی الگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارے ہی رویہ سے روبرو کراتا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی جانوروں کو ایک زندہ اور حساس مخلوق سمجھتے ہیں، یا صرف ایک تفریحی وسیلہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف ایک ہاتھی یا ایک فنکار کا نہیں، بلکہ ہماری سوچ کا ہے۔ جب تک ہم ہر قسم کے ظلم کے خلاف یکساں آواز نہیں اٹھاتے، تب تک کوئی بھی تبدیلی ادھوری رہے گی۔ روایات کو بھی وقت کے ساتھ پرکھنے اور ضرورت پڑنے پر بدلنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب وہ کسی اور جاندار کے درد کا سبب بن رہی ہوں۔

یہ واقعہ ہمیں صرف ردعمل کا نہیں بلکہ خود کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں یا صرف سوشل میڈیا پر خود کو ’اینیمل لور‘ ظاہر کرنے کے لیے غصہ کرتے ہیں۔

ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں ہمارا غم و غصہ سوشل میڈیا کے رجحانات طے کرتے ہیں اور روزمرہ کی سفاکی کا کوئی ہیش ٹیگ نہیں بنتا۔ صرف ایک انگوٹھے سے دن کے بیشتر فیصلے لینے والے ہم، اپنے غصے کو بھی اتنا ہی وقت دیتے ہیں جتنا ایک سوائپ میں لگتا ہے۔ منتخب مسائل پر اُبھرتے غصے کو ہم فوراً رائٹ سوائپ کر دیتے ہیں، اور روزمرہ کی سفاکی پر ہمارا لیفٹ سوائپ مستقل ہوتا ہے۔ جب تک ہمارا غصہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوگا، ہماری حساسیت بھی بے سود ہے۔

(مردل ویبھو وائلڈ لائف فوٹوگرافر، اسنیک ریسکیور اور ماحولیات کے ماہر ہیں۔)



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...