ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ اور اے آئی سمٹ میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف کارروائی سے کانگریس سخت ناراض ہے۔ پارٹی کے سرکردہ لیڈران لگاتار وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس بار بار وزیر اعظم نریندر مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ بتا رہی ہے، اور خاص طور سے یہ کہہ رہی ہے کہ پی ایم مودی امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں ہیں۔ اب کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر 7 مثالوں کی ایک سیریز جاری کی ہے، جس کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نریندر مودی سوالوں سے ڈرنے والے اور کمپرومائزڈ ہیں۔
کانگریس نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جمہوریت میں سوال پوچھنے اور مخالفت کرنے کا حق ہے۔ لیکن مودی حکومت میں سوال پوچھنے، عدم اتفاق کرنے یا پُرامن مظاہرہ کرنے پر آواز کچل دی جاتی ہے۔‘‘ آگے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’سوالوں سے ڈرنے والے کمپرومائزڈ پی ایم نریندر مودی نے خود کو بچانے کے لیے ہمیشہ جمہوریت کا گلا گھونٹا ہے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد 7 مثالیں پیش کی گئی ہیں، جو اس طرح ہیں:
1. ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ:
نریندر مودی نے ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر کسان مخالف تجارتی معاہدہ پر دستخط کر دیا۔ یوتھ کانگریس کے ’ببر شیروں‘ نے اس کی پُرامن مخالفت کی اور پی ایم مودی کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی۔ لیکن… تلملائے تاناشاہ نے نوجوانوں کو گرفتار کروا دیا، ان کی آواز روندنے کی کوشش کی۔ شرمناک۔
2. خاتون پہلوانوں سے چھیڑ چھاڑ:
خاتون پہلوانوں نے کہا– مودی کے چہیتے برج بھوشن سنگھ نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ انھوں نے سڑکوں پر بیٹھ کر وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کی۔ لیکن… اس تاناشاہ راجہ نے اپنی پولیس بھیجی اور ملک کی بیٹیوں کو گھسیٹ کر ہٹوا دیا۔ ان کی آواز روندنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی۔ شرم آنی چاہیے۔
3. پیپر لیک معاملہ:
پیپر لیک نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے، جو مودی حکومت میں دھڑلے سے انجام دیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں نے پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی پر سوال اٹھائے۔ صاف ستھرا امتحان کروانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن… گھمنڈی وزیر اعظم نے آواز اٹھانے کے جرم میں نوجوانوں کو دوڑا دوڑا کر بے رحمی سے پٹوایا۔
4. کسانوں پر ظلم:
کسانوں نے مودی حکومت سے فصل کی صحیح قیمت مانگی۔ اپنے حق کے لیے ہزاروں کسان نریندر مودی سے ملنے دہلی آئے۔ لیکن… اس بوکھلائے تاناشاہ نے ان کی راہوں میں کیلیں بچھوائیں، ان پر لاٹھیاں برسائیں، آنسو گیس کے گولے پھنکوائے، کسانوں کو ملک مخالف کہا۔ 700 سے زیادہ کسان شہید ہوئے۔
5. قبائلیوں کے مسائل:
نریندر مودی قبائلیوں سے ’جل-جنگل-زمین‘ چھین کر اپنے امیر دوستوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ ناانصافی ہے۔ قبائلیوں نے اس کی مخالفت کی۔ اپنے حق کے لیے تحریک چلائی، آواز اٹھائی۔ لیکن… نریندر مودی نے قبائلیوں کے گھر تڑوا دیے، ان کی پولیس سے پٹائی کروائی، بربریت کی حدیں پار کر دیں۔
6. زہریلی ہوا میں سانس لینا دشوار:
ملک کی ہوا زہریلی ہے۔ لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ صاف و شفاف ہوا عوام کا حق ہے۔ لوگوں نے حکومت سے صاف ہوا کا حق مانگا، صاف ہوا کے لیے تحریک چلائی۔ لیکن… نریندر مودی کو احتجاجی مظاہرہ برداشت کیسے ہوتا، انھوں نے اپنی پولیس بھیج کر عوام کی آواز دبا دی۔
7. اراولی تنازعہ:
اراولی ہندوستان کا ’شیلڈ‘ ہے، جسے نریندر مودی اپنے دوستوں کے لیے برباد کرنا چاہتے ہیں۔ عوام نے اسے بچانے کی مہم چلائی، تحریک شروع کی، حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ لیکن… نریندر مودی نے تحریک کو کچلنے کی سازش کی۔ پولیس بھیج کر لوگوں کی آواز کو روند دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































