
لیکن باگھ کو گاؤں میں آنے کے لیے اجازت کی ضرورت کہاں ہے؟ جب بھی کوئی باگھ آ نکلتا ہے، لطفر اور ان کی ٹیم کو بلایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں یہ جاننا مشکل ہے کہ کتنی جانیں بچائی گئیں یا کن لوگوں نے اپنی بہادری دکھائی۔ مِتھُن منڈل کے مطابق، ’’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ باگھ کے حملے سے کوئی موت ہوتی ہے تو تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اسے اس زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اس لیے مرکزی علاقے میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو کوئی معاوضہ بھی نہیں ملتا۔‘‘
چاہے لطفر اور ان کے ساتھی باگھوں اور انسانوں کو ایک دوسرے سے بچاتے ہوں، پھر بھی انہیں بھوک اور انہی شکاری جانوروں کے خطرے کے سائے میں جینا پڑتا ہے۔ پُوربو گُڑگُڑیا کے کنارے لطفر اب بھی اپنی کشتی مرمت کر رہے تھے۔ غیر یقینی آواز میں کہتے ہیں، ’’ہماری زندگی اسی محنت پر منحصر ہے۔ میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے آرام کی زندگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں، ’’ان شاء اللہ، ہم پھر ملیں گے۔‘‘ میں جلدی جلدی چل پڑا تاکہ کولکاتا کے لیے ٹرین نہ چھوٹ جائے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو سندر بن کا یہ ہیرو، جو اپنی کشتی ٹھیک کرنے میں مصروف تھا، آہستہ آہستہ نگاہوں سے اوجھل ہونے لگا۔
(یہ مضمون اصل میں بنگالی میں تحریر کیا گیا تھا، ماخذ: ruralindiaonline.org)






