سنبھل میں ’ہولی‘ کے پیش نظر جامع مسجد سمیت 10 مساجد کو ترپال سے ڈھانپ دیا گیا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 2, 2026358 Views


سنبھل کے ڈی ایم ڈاکٹر راجندر نے کہا کہ روایت کے مطابق میونسپل کونسل کے ذریعے مساجد کو ڈھانپا جاتا ہے۔ امن کمیٹی کے اجلاس میں متولیوں کی رضامندی اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ لیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>سنبھل میں ترپال سے چھپائی گئی ایک مسجد، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>سنبھل میں ترپال سے چھپائی گئی ایک مسجد، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

اترپردیش کے سنبھل میں ہولی کا تہوار امن و امان اور بھائی چارے کے ساتھ مکمل کرانے کے لیے انتظامیہ نے کمر کس لی ہے۔ کسی بھی ممکنہ تنازعہ کو روکنے کے لیے سنبھل کی تاریخی جامع مسجد سمیت تقریباً 10 مساجد کو بڑے ترپالوں سے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا ہے۔ یہ قدم خاص طور سے ان مساجد کے لیے اٹھایا گیا ہے جو ہولی کے جلوس کے راستے میں پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ جامع مسجد کے سامنے سے ہولی 2 الگ الگ جلوس نکلنے ہیں۔ چند سال قبل ایک مجسد پر رنگ کی چھینٹیں پڑنے کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اسی تلخ تجربے سے سیکھ لیتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اس بار پہلے سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔

افسران کے مطابق مساجد کی دیواروں پر ترپال لگانے کے ساتھ ساتھ کچھ مقامات پر خصوصی کوٹنگ بھی کی گئی ہے تاکہ رنگ کے داغ نہ لگیں۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری پولیس فورس تعینات ہے اور حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی اس پہل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تہوار کے رنگ میں کوئی خلل واقع نہ ہو اور باہمی ہم آہنگی برقرار رہے۔

سنبھل کے ڈی ایم ڈاکٹر راجندر پینسیا نے واضح کیا کہ روایت کے مطابق میونسپل کونسل کے ذریعے مساجد کو ڈھانپا جاتا ہے۔ امن کمیٹی کے اجلاس میں متولیوں کی رضامندی اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ لیا گیا۔ ڈی ایم کے مطابق رنگ پڑنے کے خدشے کے پیش نظر شناخت شدہ مساجد کو ڈھانپا گیا ہے، ساتھ ہی اگر کوئی شخص اپنی مسجد کو محفوظ کرنے کے لیے ترپال سے ڈھانپنا چاہتا ہے، تو اسے اس کی اجازت ہے۔ سب نے پرامن طریقے سے ہولی منانے کا عزم کیا ہے تاکہ کسی بھی تنازعہ کی صورتحال سے بچا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں سنبھل میں ’رنگ ایکادشی‘ کے دوران بھی ایسے ہی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ مذہبی جلوس نکالنے کے حوالے سے پولیس الرٹ تھی۔ چپے چپے پر فورس تعینات تھی، کیونکہ جامع مسجد کے سروے کے دوران تشدد بھڑکا تھا، اس لیے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ فی الحال، 3 اور 4 مارچ کو ہولی ہے، ایسے میں پولیس اور انتظامیہ کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...