سنبھل: عید سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگ میں سی او کا متنازعہ بیان

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 13, 2026360 Views


سنبھل میں عید سے پہلے ہوئی امن کمیٹی کی میٹنگ میں سی او کلدیپ کمار نے کہا کہ مذہبی تقریبات میں بین الاقوامی تنازعات کو شامل کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دھمکی آمیز انداز میں انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے سینہ کوبی پر علاج کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سڑک یا عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سنبھل میں امن کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سی او کلدیپ کمار۔ فوٹو: ایکس

دہلی: اتر پردیش کے سنبھل میں عید سے پہلے جمعہ کی آخری نماز اور عید کی تیاریوں کے حوالے سے جمعرات (12 مارچ) کو امن کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ کے دوران سنبھل کے سی او (سرکل آفیسر) کلدیپ کمار نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ’ایران کے لیے سینہ پیٹنے پر علاج کر دیا جائے گا۔’

انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہبی تقریب میں بین الاقوامی تنازعات کو شامل کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف ہندوستان میں ہو رہے احتجاج کے پس منظر میں انہوں نے کہا،’لڑائی ایران اور اسرائیل کے درمیان ہو رہی ہے اور کچھ لوگ اس میں اپنی ٹانگ اڑائے ہوئے ہیں۔ اگر اتنی ہی دقت ہے تو جو جہاز ایران جا رہا ہے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے، اس میں بیٹھ کر وہاں چلے جاؤ اور ایران کے لیے لڑو، پھر واپس آ جاؤ۔ لیکن اگر دو ملکوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کا اثر ہمارے ملک کے لاء اینڈ آرڈر پر پڑے گا تو ہم اس کا علاج کریں گے بہت بڑھیا والا۔’

سی او کلدیپ کمار نے میٹنگ میں موجود لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی مواقع پر کسی بھی ملک کے خلاف نعرے بازی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا،’الوداع کی نماز ہو یا جمعہ کی نماز، کسی بھی قسم کا کسی ملک کے خلاف نعرہ نہیں لگنا چاہیے۔ ہم ہندوستانی ہیں، یہاں سکون سے رہ رہے ہیں۔ کہیں دو چار ملکوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے تو وہ ان کے مسائل ہیں، وہ جانیں۔ لیکن دس آدمی ساتھ کھڑے ہو کر سینہ پیٹ رہےہیں کہ ہائے ہائے ایران کو مار ڈالا، ایران کو مار ڈالا ،ارے بھائی اتنی ہی فکر ہے تو چلے جاؤ ایران ۔’

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کسی کو بھی ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔’ہم یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی یہاں آ کر ماحول خراب کرے۔’

سی او نے یہ بھی کہا کہ کچھ قصبوں میں اس طرح کے واقعات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا،’ایک دو قصبوں میں کچھ لوگوں نے ایسی حرکتیں کی ہیں۔ ہم زبردستی دوسروں کی لکڑی کیوں لے رہے ہیں۔’

میٹنگ میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’یہ سب باتیں آپ ان تک پہنچا دیں، ورنہ پولیس وہاں تک بھی علاج کرتی ہے جہاں پوسٹر چھپتے ہیں اور نعرے لکھے جاتے ہیں۔’

انہوں نے لوگوں سے عید کے دوران ماحول کو پُرامن بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا،’ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ یہ محبت اور بھائی چارے کا تہوار ہے، میٹھی سوئیوں کا تہوار ہے، اس میں کسی کو کڑواہٹ گھولنے نہ دیں۔’

سی او نے مزید کہا،’میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ انسٹاگرام پر ریل بنانے کے چکر میں کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ یہ ہو گیا، خامنہ ای کو مار دیا، یہ کر دیا وہ کر دیا۔ ایسی چیزیں ہرگز نہ ہونے دیں۔ کسی بھی قصبے یا شہر کا ایک ہی آدمی ماحول خراب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔’

کلدیپ کمار نے یہ بھی واضح کیا کہ سڑک یا عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا،’ایک بھی شخص مسجد کے باہر نماز پڑھتا نظر نہیں آنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔’

واضح ہو کہ نومبر 2024 میں سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعہ کے بعد سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...