
دلت اور سماجی انصاف کی سیاست پر ہونے والی حالیہ سرگرمیوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی صورتحال نہیں بلکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے اس کی بنیاد پہلے ہی رکھ دی تھی۔
13 مارچ کو لکھنؤ میں کانگریس کے زیر اہتمام ’سماجیک پریورتن دیوس‘ کے موقع پر منعقدہ پروگرام نے اس بدلتی ہوئی سیاسی سمت کو مزید واضح کر دیا۔ اس تقریب میں نہ صرف کانشی رام، شاہوجی مہاراج، جیوتی با پھولے اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصاویر نمایاں تھیں بلکہ گاندھی، نہرو اور مولانا آزاد کی موجودگی بھی ایک وسیع سیاسی پیغام دے رہی تھی۔






