
لکھنؤ: اتر پردیش کے ضلع بریلی میں 26 ستمبر کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر سماجوادی پارٹی کے اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ماتا پرساد پانڈے آج یعنی 4 اکتوبر کو ایک وفد کے ساتھ متاثرین سے ملاقات کے لیے بریلی روانہ ہونا چاہتے تھے مگر انتظامیہ نے اس دورے پر روک لگا دی اور انہیں ان کی لکھنؤ واقع رہائش گاہ پر نظربند کر دیا۔
ذرائع کے مطابق بریلی کے ضلع مجسٹریٹ نے پہلے ہی پولیس کمشنر لکھنؤ سمیت متعدد اضلاع کے پولیس سربراہان کو تحریری ہدایت جاری کی تھی کہ کسی بھی سیاسی رہنما یا وفد کو بغیر اجازت بریلی کی حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اس اقدام کو علاقے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔






