
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف فوجی آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔ منگل کے روز ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے وابستہ حکام کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو امریکہ سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ اس مؤقف نے خطے میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب عرب دنیا کے چند اہم ممالک نے امریکہ کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، عمان اور قطر نے وائٹ ہاؤس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران کے موجودہ نظام کو گرانے کی کوشش کی گئی تو عالمی تیل منڈی شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان ممالک کا خیال ہے کہ اس کے منفی اثرات امریکی معیشت تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ ٹرمپ ان انتباہات کو فیصلہ کن اہمیت دیں، کیونکہ وہ مختلف آرا سننے کے باوجود حتمی فیصلہ خود کرتے ہیں۔






