
ٹرانسفر کی گئی رقم کو جعلی پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کے طور پر دکھایا گیا اور من گھڑنت منافع بھی اس سرمایہ کاری پر دکھایا گیا۔ متاثرہ ڈاکٹر نے 7 مارچ سے 18 مارچ کے درمیان تقریباً 8 ٹرانزیکشن کے ذریعہ 12.31 کروڑ روپئے ٹرانسفر کردیئے جس کے بعد ایپ پر 54 کروڑ روپئے کا منافع نظر آنے لگا۔ متاثرہ نے جب روپئے نکالنے کی کوشش کی تو سائبر جعلسازوں نے متاثرہ کو دھمکی دینا شروع کردی۔ اس کے بعد متاثر کو سمجھ آیا کہ سائبر فراڈ کا شکار ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اس نے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن جا کرشکایت درج کرائی۔






