نیپال میں بالیندر شاہ کی قیادت میں بنی نئی حکومت مسلسل ایکشن موڈ میں ہے۔ اب ملک کے سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا معاملہ درج ہوا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں نیپال میں کئی لیڈران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور دیوبا ان میں شامل ہونے والی نئی شخصیت ہیں۔ 79 سالہ شیر بہادر دیوبا فی الحال نیپال کے باہر ہیں اور علاج کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف عائد کردہ بدعنوانی کے الزام غلط ہیں۔ یہ تمام الزامات سیاسی طور پر محرک ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر کہا کہ میرے خاندان کی جائیدادوں کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرے خلاف لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔ میری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے۔ واضح رہے کہ شیر بہادر دیوبا کے گھر سے جین زی تحریک کے دوران بڑے پیمانے جلے ہوئے نوٹ برآمد ہوئے تھے۔ اس تعلق سے میڈیا میں کافی بحث ہوئی تھی اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس کی فارنسک تحقیقات کرائی گئی تھی، جس میں تصدیق ہوئی کہ یہ ٹکرے اصل کرنسی کے تھے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے تحقیقات شروع کی گئی۔ منی لانڈرنگ انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ تیار کرنے کے لیے دیوبا کی رہائش کا دورہ کیا تھا۔
نیپال کی اتھارٹیز نے دیوبا کے علاوہ ان کی اہلیہ، سابق وزیر خارجہ آرزو رانا دیوبا کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیا ہے۔ اس معاملہ میں منی لانڈرنگ انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے سفارش کی تھی کہ دیوبا اور ان کی اہلیہ کے خلاف وارنٹ جاری ہو۔ دیوبا کا کہنا ہے کہ فی الحال میں اور میری اہلیہ علاج کے سلسلے میں ملک سے باہر ہیں، واپسی میں کافی وقت لگے گا۔ نیپالی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیوبا اور ان کی اہلیہ کچھ روز قبل سنگاپور میں پائے گئے تھے۔ ان کی گرفتاری کے لیے پولیس انٹرپول نوٹس جاری کرا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جین زی تحریک کے بعد ہوئے انتخاب میں 35 سالہ بالیندر شاہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ اب نیپال میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پرانے لیڈران کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شیر بہادر دیوبا نیپال کے 5 بار وزیر اعظم رہے ہیں، وہ نیپالی کانگریس پارٹی کے سب سے سینئر لیڈران میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ ماہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان لوگوں پر الزام تھا کہ انہوں نے جین زی تحریک کو ختم کرنے لیے تشدد کا استعمال کیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































