
اسی معاملے پر ممبئی میں ایک تقریب کے دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی دھنکھڑ کی غیر حاضری پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جگدیپ دھنکھڑ ابھی کہاں ہیں؟ وہ لاپتہ ہیں۔ ان کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے، مگر وہ کہاں ہیں؟ دھنکھڑ نے استعفیٰ صحت وجوہات کی بنا پر دیا، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کیا بی جے پی نے ان کا آپریشن کیا ہے یا انہیں کہیں چھپا دیا ہے؟‘‘ ان کے بقول، بی جے پی نے دھنکھڑ کو ’’غائب‘‘ کر دیا ہے۔
اس معاملے پر اس سے پہلے 9 اگست کو سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل بھی اپنی تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم ’لاپتہ لیڈیز‘ کے بارے میں تو سنا ہے، لیکن ’لاپتہ نائب صدر‘ پہلی بار سن رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے دھنکھڑ کی صحت اور موجودگی کے بارے میں واضح بیان دیں تاکہ خدشات دور ہو سکیں۔ سبل نے طنزیہ سوال کیا، ’’کیا دھنکھڑ کو تلاش کرنے کے لیے ہمیں ہیبیس کارپس (کسی شخص کو حاضر کرنے کی درخواست) درخواست دائر کرنی پڑے گی؟‘‘




