
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف نرونے کی کتاب میں شائع شدہ یادداشتوں کی بنیاد پر پی ایم مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کتاب کے اقتباس کو پارلیمنٹ میں پڑھنے کی کوشش کی جس پر بی جے پی کے ہنگامہ آرائی کے بعد اسپیکر نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس واقعہ نے ایک بڑے سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی متاثر ہوئی اور بجٹ اجلاس کی باقی میٹنگوں سے اپوزیشن کے 8 اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا۔
اس کے بعد راہل گاندھی پارلیمنٹ کے احاطے میں کتاب کی ایک کاپی لہراتے ہوئے نظر آئے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ اگر پی ایم مودی پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو وہ انہیں کتاب پیش کریں گے۔ تاہم پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئے اور لوک سبھا میں تقریر بھی نہیں کی۔






