سائنسی سوچ ختم ہونے کا مطلب سیاسی آزادی کا بھی خاتمہ… امل چندرا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 3, 2026358 Views


آزاد ہندوستان کا سائنس سے رشتہ اتفاق نہیں۔ اسے جواہر لعل نہرو جیسے دور اندیش افراد نے شکل دی ہے۔ نہرو کے الفاظ میں– سائنسی سوچ زندگی جینے کا طریقہ، عمل میں لانے والی خوبی اور لوگوں سے جڑنے کا وسیلہ ہے

<div class="paragraphs"><p>سی وی رمن کی یاد میں منایا جاتا ہے ’قومی یومِ سائنس‘</p></div><div class="paragraphs"><p>سی وی رمن کی یاد میں منایا جاتا ہے ’قومی یومِ سائنس‘</p></div>

i

user

سی وی رمن کے ذریعہ ’رمن افیکٹ‘ کی دریافت کو یاد کرتے ہوئے ہر سال 28 فروری کو قومی یومِ سائنس جاتا ہے۔ یہ منطق، ثبوت اور سوال پوچھنے کے حوصلے میں ہندوستان کے اٹوٹ یقین کا احترام ہے۔ اسے رسمی تشکر ادا کرنے کے بجائے منطقی تحقیق کے تئیں عہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 51اے(ایچ) کے تحت اس عزم کو ظاہر کرتا ہے، جو شہریوں سے ’سائنسی سوچ، انسان دوستی اور جستجو کی روح‘ کی اپیل کرتا ہے۔ پھر بھی، تمام شواہد بتاتے ہیں کہ موجودہ سیاسی ترجیحات کے باعث یہ آئینی وعدہ کمزور ہو رہا ہے۔

آزاد ہندوستان کا سائنس سے رشتہ اتفاقی نہیں تھا۔ اسے جواہر لعل نہرو جیسے دور اندیش افراد نے سوچ سمجھ کر شکل دی۔ انہوں نے سائنسی سوچ کو تکنیکی مہارت کے بجائے ثقافتی قدر کے طور پر دیکھا۔ ان کے الفاظ میں ’سائنسی سوچ زندگی جینے کا طریقہ ہے، سوچنے کا عمل ہے، عمل میں لانے والی خوبی ہے، اور لوگوں سے جڑنے کا ذریعہ ہے۔‘ البرٹ آئنسٹائن کے ساتھ نہرو کی خط و کتابت اور ذاتی دوستی نے اس مشترکہ یقین کو ظاہر کیا کہ سائنسی فکر کو آزادی اور جمہوریت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ آئنسٹائن نے خبردار کیا کہ ’قوم پرستی اور مذہبی جنون منطق کے دشمن ہیں‘، جبکہ نہرو کا کہنا تھا کہ ’اندھی عقیدت، فرقہ واریت اور آمریت کے تدارک کے لیے سائنسی سوچ ضروری ہے۔‘ اسی سوچ نے آئی آئی ٹی، کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ جیسے اداروں کے قیام کو تحریک دی۔ اس سوچ میں سائنس سیاسی اقتدار کے تابع نہیں تھا، بلکہ اس پر لگام لگانے کا ایک ذریعہ تھا۔

سائنسی سوچ کو آئین میں شامل کرنا محض علامتی نہیں تھا۔ جب 1976 میں آرٹیکل 51اے کی توسیع ہوئی تو سیکولرزم اور ہم آہنگی کے ساتھ ’سائنسی سوچ‘ کو شامل کرنے سے یہ ظاہر ہوا کہ جمہوریت ایک منطقی عوامی ثقافت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ سیاسی عدم استحکام کے دوران بھی اس اصول کا تمام حکومتوں میں مجموعی طور پر احترام کیا گیا کہ سائنسی علم ثبوت پر مبنی ہو۔

لیکن، 2014 سے ایک واضح تبدیلی آئی۔ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر ہندوستان کا خرچ جی ڈی پی کے قریب 0.7 فیصد پر مستحکم رہا ہے۔ یہ امریکہ، چین اور اسرائیل سے کافی کم ہے جو 2.5 سے 5 فیصد خرچ کرتے ہیں۔ انوویشن اور خود انحصاری کی پالیسی کے بارے میں بڑی بڑی باتوں کے باوجود بنیادی تحقیق کے لیے فنڈنگ مستحکم رہی ہے جبکہ فیلوشپ، لیبارٹری گرانٹ اور یونیورسٹی انفراسٹرکچر کے لیے مختص رقم مہنگائی کے مطابق نہیں رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریسرچ کے لیے ضروری ماحول اور محققین حوصلہ شکن ہوئے۔

وسیع تر فکری ماحول کے حوالے سے بھی تشویش بڑھی ہے۔ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے الفاظ میں ’آزاد اور کھلے خیالات، سائنسی اور منطقی ہونے کے تصور پر زبردست حملہ ہو رہا ہے۔‘ کچھ بیانات سے یہ تشویش مزید بڑھی ہے۔ مثلاً، وزیر اعظم نریندر مودی نے گنیش کو قدیم ہندوستان میں جدید پلاسٹک سرجری اور جینیٹک سائنس کا ثبوت بتایا۔ مرکزی انسانی وسائل کے وزیر رمیش پوکھریال نے قدیم ہندوستانی نجوم کے مقابلے میں جدید سائنس کو ’بونا‘ کہا، جبکہ تریپورہ کے سابق وزیر اعلیٰ بپلب دیب نے دعویٰ کیا کہ اُس وقت انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی تھی۔ ایسے بیانات تہذیبی فخر اور تجرباتی سائنس کے درمیان حد کو دھندلا کرتے ہیں۔

ہندوستان کی سائنسی برادری نے حکومت کی جانب سے ایسے غیر مصدقہ دعوؤں کو درست ٹھہرانے پر اعتراض کیا۔ 2015 کے سائنس کانگریس میں ویدک دور میں ’طیارہ‘ ہونے پر زور دینے والی پیشکش کی سائنس دانوں نے مخالفت کی۔ اسی طرح کے اعتراضات تب بھی اٹھے جب دعویٰ کیا گیا کہ ’مہابھارت دور‘ میں اسٹیم سیل ٹیکنالوجی تھی۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ ایسے دعوے اساطیری داستانوں اور سائنس کے درمیان حد کو دھندلا کرتے ہیں، جس سے سائنسی طریقوں پر عوام کا اعتماد کم ہوتا ہے۔

یہ تشویش آل انڈیا پیپلز سائنس نیٹورک کے قومی اجلاس میں ظاہر کی گئی، جہاں 100 سے زائد سائنسدانوں نے کہا کہ ہندوستان میں سائنسی سوچ کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ثبوت پر مبنی استدلال کے تئیں بڑھتے ہوئے مخالف رویے پر خبردار کیا کہ ایسے دعوؤں کو فروغ دینے سے ’نہ صرف فرضی سائنس اور اندھی عقیدت پھیلتی ہے بلکہ اس سے سماجی امتیاز بھی بڑھتا ہے جو انسان دوستی کے نظریے کی بنیاد پر ضرب ہے۔‘

یہ تبدیلی سب سے زیادہ یونیورسٹیوں میں نظر آ رہی ہے۔ کبھی یہ مباحثے کے فعال مراکز تھے، لیکن اب وہ اساتذہ کی کمی، گھٹتے ریسرچ بجٹ اور بڑھتی انتظامی مرکزیت سے دوچار ہیں۔ تقرری سست اور فنڈنگ محدود ہوئی ہے جس سے جستجو پر مبنی بنیادی سائنس کنارے ہو گئی ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ خاص طور پر ان مضامین میں دلچسپی گھٹی ہے جن سے فوری تجارتی فائدہ نہیں ہوتا۔

ہندوستان نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس پر عالمی تقریبات منعقد کر کے خود کو نئی ٹیکنالوجی میں قائد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اے آئی سمٹ میں، ملک کو حقائق کی غلطیوں اور مبالغہ آمیز دعوؤں کے باعث شرمندگی اٹھانی پڑی۔ یہ واقعات صرف انتظامی خامیوں کو نہیں دکھاتے، بلکہ غلطی تسلیم نہ کرنے کی ضد بھی ظاہر کرتے ہیں جو سائنسی طرز عمل کے برعکس ہے۔ سائنس میں اعتبار بڑے دعوؤں پر نہیں، بلکہ ثبوت کی بنیاد پر اپنے مؤقف کو بدلنے کی آمادگی پر قائم ہوتا ہے۔

شاید کمزوری کی بڑی وجہ طاقت اور مہارت کے درمیان بدلتا ہوا رشتہ ہے۔ حالیہ برسوں میں جن سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے ماحولیاتی اثرات سے لے کر عوامی صحت کے اعداد و شمار تک سرکاری مؤقف پر سوال اٹھائے، انہیں پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گریٹ نکوبار پروجیکٹ جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو ماہرین کی تنبیہ کے باوجود ماحولیاتی منظوری دی گئی۔ جب ماہرین کی رائے کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا منتخب طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ پیغام جاتا ہے کہ ثبوت بعد کی چیز ہے، سب سے بڑی چیز طاقت ہے۔

یہ سائنس کو ایک اخلاقی موضوع ماننے کی نہرووین سوچ سے بالکل مختلف ہے۔ نہرو کا ماننا تھا کہ سائنسی سوچ کے لیے یہ جرأت ضروری ہے کہ حقائق کو قبول کیا جائے اور اگر ثبوت مخالف ہوں تو اپنی اساطیری عقیدتوں کو چھوڑ دیا جائے۔ آئنسٹائن کے ساتھ ان کی گفتگو بار بار اسی نکتے پر آتی تھی کہ تنقیدی سوچ کی آزادی کو سیاسی آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ آج اس سوچ کا کمزور ہونا کسی ایک پالیسی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایسی کئی خامیوں کا نتیجہ ہے جو حقیقت کے بجائے دکھاوے کو اور تنقیدی کے بجائے یکسانیت کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔

ایسا نہیں کہ ہندوستان میں سائنسی صلاحیت کی کمی ہے۔ ہندوستانی محققین دنیا بھر میں بہترین کام کر رہے ہیں۔ لیکن بغیر جانچ کے انوویشن نقل بن کر رہ جانے کا خطرہ ہے، اور سائنسی سوچ کے بغیر ’تکنیکی عمل‘ غلط معلومات، اندھی عقیدت اور آمریت پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ آئین سازوں نے اس خطرے کو سمجھتے ہوئے سائنسی سوچ کو صرف ماہرین پر چھوڑنے کے بجائے ایک شہری فریضہ بنایا۔

قومی یومِ سائنس ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا سائنس کو تنقیدی جانچ کے طریقے کے طور پر اہمیت دی جانی چاہیے یا صرف قومی فخر کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے؟ فرق بہت بڑا ہے۔ سائنسی سوچ کے لیے پرعزم معاشرہ اختلاف رائے کی حفاظت کرتا ہے، غیر یقینی کو قبول کرتا ہے اور مہارت کا احترام کرتا ہے، تب بھی جب اس سے اقتدار غیر مستحکم ہوتا ہو۔ جو معاشرہ ایسا نہیں کرتا، وہ بے شک سیٹلائٹ لانچ کر لے اور سپر کمپیوٹر بنا لے، لیکن یہ کمزور فکری بنیاد پر ہوگا۔

فی الحال سائنسی سوچ کا کمزور ہونا نریندر مودی حکومت کے انتظامی فیصلوں میں صاف نظر آتا ہے، جہاں بیان بازی، فنڈنگ کی ترجیحات اور ادارہ جاتی مداخلت نے تعلیمی آزادی اور ثبوت پر مبنی پالیسی سازی پر دباؤ ڈالا ہے، اگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ درست راستے پر واپس آنے کے لیے ریسرچ میں سرمایہ کاری بڑھانا، یونیورسٹیوں کو نظریاتی دباؤ سے بچانا، اعداد و شمار اور فیصلہ سازی میں شفافیت، اور ایسا تعلیمی نظام ضروری ہے جو نوجوانوں کو یہ سکھائے کہ کیسے سوچنا ہے، نہ کہ کیا سوچنا ہے۔ سب سے بڑھ کر، یہ تسلیم کرنے کی سیاسی فروتنی ضروری ہے کہ سچ سخت جانچ سے سامنے آتا ہے نہ کہ کسی اعلیٰ اختیار کی طرف سے اعلان کرنے سے۔

(مضمون نگار امل چندرا مصنف اور تجزیہ کار ہیں)


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...