
جب سے انسان نے ہوش سنبھالا، اس نے اپنی زندگی اور ماحول کی حفاظت کے لیے آسمانی مظاہر کو دیوتاؤں سے جوڑا۔ چونکہ انسان جنگلی جانوروں کے مقابلے میں کمزور تھا، اسے ہر وقت اپنی جان اور ماحول کی حفاظت کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔ جو چیزیں اس کی گرفت سے باہر تھیں، اسے انسان نے دیوی دیوتا سمجھ کر خوشامد کی اور اپنے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔
آسمان میں ستاروں کے علاوہ سورج اور چاند انسان کے لیے سب سے اہم مظاہر تھے۔ سورج زمین پر زندگی کے لیے نہایت ضروری تھا اور رات کے اندھیرے میں چمکتا ہوا چاند بھی ہمیشہ حیرت کا سبب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے سورج اور چاند کو اہم دیوتا تصور کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابھرتی تہذیبوں نے ان میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے مختلف کہانیاں بنائیں اور یہ کہانیاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا حصہ بن گئیں۔





