
فلم کے ہدایت کار راجیش بھویان، جنہیں عوام کے ردِعمل سے گہرا تاثر ملا، نے کہا ’صبح ساڑھے چار بجے لوگوں کو جمع ہوتے دیکھنا دل کو چھو لینے والا لمحہ تھا۔ ہمارے لیے، عوام کا پیار ہی سب سے بڑا انعام ہے۔ رؤئی رؤئی بنالے اب ہماری نہیں، بلکہ عوام کی فلم ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’’زوبن چاہتے تھے کہ فلموں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف ایک موسیقانہ فلم بنائی جائے۔ اسی لیے اس فلم میں 11 گانے ہیں۔ زوبن سے پہلے آسام میں کسی نے ایسی فلم نہیں بنائی تھی۔‘‘






