
صرف چند سطروں میں سماج کی منافقت، شادی کے تقدس کے نام پر جاری دھندے اور ”ثبوتِ“ کی مسخ شدہ تفہیم کو بے نقاب کر دینا ارشد منیم کی خاصیت ہے۔
ایک اور افسانچہ ’بیٹے‘ میں انسان کی بے حسی اور رشتوں کے بکھراو کوبیان کیا گیا ہے۔
”میں پچھلے کئی دنوں سے سڑک کے کنارے گندگی کے ڈھیر کو کرید کرید کر کھانے کی چیزیں تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ کہ کسی نے میری پیٹھ پر زور سے ڈنڈا دے مارا۔ یہ دیکھتے ہی میرے رکشک بیٹوں کو غصہ آ گیا اور انہوں نے ڈنڈا مارنے والے کو پکڑا اور پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ میری حفاظت میں وہ ایک انسان کی جان لے کر چلے گئے۔ میں اب بھی اسی جگہ ویسے ہی بیٹھی ہوں۔ کئی دنوں کی بھوکی پیاسی بے حال”۔
ان کے افسانہ ”مہربان“ کا آخری پیراگراف پڑھنے کے قابل ہے جس میں شرابی تاجو قرآن کی حرمت بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیل جاتا ہے۔
”اپنے جیتے جی تو میں تمھیں قرآن کی بے حرمتی نہیں کرنے دوں گا۔ رک جاؤ سالو… تاجو ڈان سے تم نہیں بچ سکتے۔ مر جاؤں گا مگر قرآن کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“ اس کے پاس ہی ڈنڈا پڑا تھا جس پر خون لگا ہوا تھا۔ مسجد سے ایک لڑکا دوڑتا ہوا آیا اور بولا: ”میں ابھی مسجد کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھ کر آیا ہوں۔ وہ دو آدمی تھے۔ تاجو نے بڑی دلیری کے ساتھ انھیں قرآن شریف شہید کرنے سے روکا ہے۔“ فیاض نے تاجو کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ اسے زمین پر پڑا تاجو واقعی میں کوئی ڈان محسوس ہونے لگا تھا”۔






