
ساٹھ کی دہائی میں شمی کپور کامیابی کے بامِ عروج پر تھے۔ فلم ساز اکثر نئی اداکاراؤں کو ان کے ساتھ لانچ کرتے تھے۔ سائرہ بانو (جنگلی)، آشا پاریکھ (دل دے کر دیکھو) اور شرمیلا ٹیگور (کشمیر کی کلی) جیسے نام اسی روایت کے تحت متعارف ہوئے۔ ان کے ساتھ کام کرنا نئی اداکاراؤں کے لیے شہرت کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔
پانچ دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں شمی کپور نے تقریباً 200 فلموں میں کام کیا۔ ان کی چند یادگار فلموں میں ’مجرم، اجالا، رنگین راتیں، راجکمار، جانور، تیسری منزل، برہمچاری، تم سے اچھا کون ہے‘ اور ’پرنس‘ شامل ہیں۔
ابتدا میں انہوں نے راج کپور کی طرح سنجیدہ فلموں جیسے ’مرزا صاحبان‘، ’لیلا مجنوں‘ اور ’شمع پروانہ‘ میں کردار نبھائے، مگر وہ کردار ان کے فطری جوش سے میل نہیں کھاتے تھے۔ گیتابالی کے مشورے نے ان کی اداکاری میں ایک نیا رنگ بھرا، جس نے انہیں نہ صرف کامیابی بلکہ ایک منفرد شناخت بھی عطا کی۔






