
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص غلط یا گمراہ کن معلومات پھیلانے کے مقصد کے لیے تخلص یا عارضی شناخت کا استعمال نہیں کر سکتا جو نیپال کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو۔ مزید برآں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سرکاری لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز تھی۔ لائسنس کے بغیر کام کرنے پر 25 لاکھ نیپالی روپے تک جرمانے کی سزا طے کی گئی تھی۔ اس بل میں سائبر بلنگ، اسکیمنگ، فشنگ، شناختی فراڈ، جنسی استحصال اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جانے والے دیگر جرائم کے لیے سخت سزا کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔






