’زبان بند کرنا آسان نہیں‘، ہندی کی اردو جڑوں پر قدغن ہندوستان کی لسانی روح کے لیے خطرہ کیوں ہے؟… حسنین نقوی

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 22, 2025478 Views


وزارت اطلاعات و نشریات نے کچھ چینلز کو ہدایت دی کہ اردو الفاظ کے استعمال کو کم کریں اور ’خالص‘ ہندی الفاظ کے استعمال کو یقینی بنانے کے مقصد سے ’لینگویج ایکسپرٹ‘ مقرر کریں۔

تصویر سوشل میڈیاتصویر سوشل میڈیا

i

user

’زبانیں تو اسے بولنے والوں کی ملکیت ہوتی ہیں، حکومتوں یا مذاہب کی نہیں۔‘ مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے ہندی نیوز چینلز کو نشریات میں اردو الفاظ کے استعمال پر نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ملک میں زبان، تاریخ اور شناخت پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ قدم ہندی اور اردو زبان کے درمیان قدیم کشمکش کو ایک بار پھر سامنے لاتا ہے اور لسانی پالیسی، سماجی ہم آہنگی و سیاسی محرکات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

نوٹس، جس نے طوفان برپا کیا

رواں ہفتہ اطلاعات و نشریات کی وزارت نے بڑے ہندی چینلز، مثلاً ٹی وی 9-بھارت ورش، آج تک، اے بی پی، زی نیوز اور ٹی وی 18 کو نوٹس جاری کیا کہ ان کی نشریات میں اردو الفاظ کا ’بے جا استعمال‘ ہوتا ہے، جو مجموعی الفاظ کا تقریباً 30 فیصد ہے۔ وزارت نے ان چینلز کو ہدایت دی کہ اردو الفاظ کے استعمال کو کم کریں اور ’خالص‘ ہندی الفاظ کے استعمال کو یقینی بنانے کے مقصد سے ’لینگویج ایکسپرٹ‘ مقرر کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت کے نوٹس میں خود ایسے الفاظ استعمال ہوئے جن کے ماخذ اردو ہیں، اور اس حد تک عام ہو چکے ہیں کہ لوگ انہیں غیر مان کر الگ نہیں کرتے۔ مثلاً غلط، شکایت، تحت، طور، دنوں، خلاف، استعمال وغیرہ۔ ایسے میں یہ سوالات اہم ہو جاتے ہیں کہ زبان کی ملکیت کس کے پاس ہے؟ کیا حکومتیں فیصلہ کر سکتی ہیں کہ کون سے الفاظ زندہ رہیں اور کون سے مر جائیں؟ اور یہ ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی روایت کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

ہندی، اردو اور ہندوستانی: ایک مشترکہ تاریخ

یہ تنازعہ اس غلط مفروضے پر کھڑا ہے کہ ہندی اور اردو 2 الگ اور مذہب سے جُڑی زبانیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک ہی لسانی خاندان کے جُڑواں لہجے ہیں۔

  • بنیاد: دونوں دہلی اور نواحی علاقوں کی بولی ’کھڑی بولی‘ سے ابھریں، جسے قدیم زمانے میں ’ہندوی‘ یا ’ہندوستانی‘ کہا جاتا تھا۔

  • مشترکہ ذخیرۂ الفاظ: ہندی زبان رسمی سطح پر سنسکرت اور اردو فارسی-عربی پر انحصار کرتی ہے، لیکن بول چال، محاورے اور قواعد میں دونوں زبانیں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

  • تاریخی استعمال: ماہر لسانیات طارق رحمن بتاتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی تک مصنّفین و ادیب نے اس زبان کے لیے ہندی، ہندوستانی، ریختہ، اردو کو باری باری استعمال استعمال کیا۔ حتیٰ کہ خدائے سخن کا خطاب حاصل کرنے والے مشہور اردو شاعر میر تقی میر بعض اوقات اپنے اشعار کو ’ہندی‘ کہہ دیتے تھے۔

زبانوں کی یہ مصنوعی علیحدگی جدید دور کی پیداوار ہے، جس کو نوآبادیاتی دور کی تقسیم پر مبنی پالیسیوں نے تیار کیا اور بعد میں فرقہ وارانہ سیاست نے ہوا دی۔

نوآبادیاتی ورثہ اور لسانی سیاست

انگریزوں نے ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی کے تحت ہندی-اردو تقسیم کو مضبوطی عطا کی۔ مثلاً

  • 1837: فارسی کو ہٹا کر عدالتوں میں ’ہندوستانی‘ (فارسی رسم الخط) نافذ کیا گیا۔

  • 1860 کے بعد: ہندو اصلاحی گروپوں نے دیوناگری ہندی کی مہم چلائی جبکہ مسلم اشرافیہ نے اردو کا دفاع کیا۔

  • 1900: متحدہ صوبہ جات میں ہندی-اردو تنازعہ زبان اور مذہب کے ساتھ جُڑ گیا، یعنی ہندی ہندوؤں سے اور اردو مسلمانوں سے جوڑ دی گئی۔

جیسا کہ اسکالر آلوک رائے نے ’ہندی نیشنلزم‘ میں بحث کی ہے، یہی وہ لمحہ تھا جب زبان محض اظہار کا وسیلہ نہ رہی بلکہ شناخت، وفاداری اور سیاست کا نشان بن گئی۔ دیکھا جائے تو اطلاعات و نشریات کی وزارت کا حالیہ نوٹس نوآبادیاتی ورثے کی گونج ہے، نہ کہ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...