اب راجستھان کا نام آنے پر ذہن میں مہنگی شادیاں آنے لگی ہیں، جن میں ڈیزائنر لہنگے اور شیروانی پہنے مشہور شخصیات اور شادی میں شرکت کرنے والے ٹرمپ خاندان جیسے مہمان شامل ہوتے ہیں۔ دراصل اب وہی ریت کے ٹیلوں والا راجستھان مہنگی شادیوں کا برانڈ بن گیا ہے اور مشہور شخصیات کے لیے شادی کا اسٹیٹس سمبل۔ جس رفتار سے ملک و بیرون ملک کی ہستیاں راجستھان میں شادیا کر رہی ہیں، اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر راجستھان میں شادی نہیں کی تو سمجھئے کہ شادی رائل (شاہانہ) نہیں تھی۔
اب راجستھان میں شادیوں کا تذکرہ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ فلم اداکار وجے دیورکونڈا اور اداکارہ رشمیکا مندانا بھی 26 فروری کو راجستھان کے ادے پور میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے ہیں۔ ان کی شادی ادے پور میں شاہی انداز میں ہوگی اور ان کی پری ویڈنگ تقریبات زور و شور سے جاری ہیں۔ شادی میں صرف جوڑے کے خاندان والے اور قریبی رشتہ دار ہی شرکت کریں گے۔ حیدرآباد سے مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی ٹیمیں ادے پور پہنچ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سیکورٹی بھی بلائی گئی ہے، تاکہ ان کے خاص دن پر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو۔
ویسے لگژری ہوٹل تو پورے ملک میں ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ یہاں لوکیشن، وراثت اور ویژول ڈرامہ تینوں ایک ساتھ ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر مہران گڑھ فورٹ کے سامنے پھیرے لینے کی تصویر کسی ’بیچ ویڈنگ‘ سے زیادہ سینیمیٹک لگتی ہے۔ یعنی راجستھان نے خود کو صرف ایک ڈیسٹینیشن نہیں بلکہ ایک ’ڈریم سیٹ‘ بنا لیا ہے اور اب راجستھان ٹورسٹ اسٹیٹ (سیاحتی ریاست) سے آگے بڑھ کر ویڈنگ ڈیسٹینیشن برانڈ بن رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب صرف جے پور، ادے پور اور جودھ پور ہی نہیں، بلکہ جیسلمیر، رنتھمبور، پشکر اور بوندی جیسے شہر بھی ویڈنگ میپ پر آ چکے ہیں۔ راجستھان نے اپنے پورے جغرافیے کو ایک ویڈنگ پروڈکٹ بنا دیا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، اس کے پیچھے ایک ٹرینڈ-سیٹر شادی تھی جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ وہ شادی تھی 2007 میں برطانوی اداکارہ الیزابتھ ہرلے اور ہندوستانی صنعت کار ارون نائر کی، جو جودھ پور کے شاہی ہوٹل ’امید بھون پیلس‘ میں ہوئی تھی۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والی اس تقریب کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا میں چھائی رہیں۔ ویڈنگ انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اسی ایونٹ نے پہلی بار دنیا کو دکھایا کہ ہندوستان میں بھی ایسی رائل ویڈنگ ہو سکتی ہے، جو یورپ کے قلعوں یا ٹسکنی کے ولا کو ٹکر دے۔
اس کے بعد راجستھان میں ہائی پروفائل شادیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کیٹی پیری-رسل برانڈ نے رنتھمبور میں شادی کی، پھر پریانکا چوپڑا-نک جونس، کیترینا کیف-وکی کوشل اور کیارا اڈوانی-سدھارتھ ملہوترا، ہاردک پانڈیا، راگھو چڈھا-پرینیتی چوپڑا جیسے ستاروں نے بھی راجستھان کا انتخاب کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سلیبرٹی کلچر میں ایک اَن کہی روایت بن گئی کہ اگر شادی کو رائل دکھانا ہے، تو لوکیشن راجستھان ہونی چاہیے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہاں ہر سال اوسطاً 15 سے 20 لاکھ شادیاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ ڈیسٹینیشن ویڈنگ کا ہے، جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میں سے 25 فیصد شادیاں کم بجٹ کی ہوتی ہیں، 50 فیصد درمیانے بجٹ (10 لاکھ روپے تک) کی ہوتی ہیں، 20 فیصد ہائی بجٹ (50 لاکھ روپے تک) کی ہوتی ہیں اور 5 سے 7 فیصد شادیوں کا بجٹ 50 لاکھ روپے سے 3 کروڑ روپے تک ہوتا ہے۔ ڈیسٹینیشن ویڈنگ میں 2 کروڑ روپے سے لے کر 20 سے 25 کروڑ روپے تک کا خرچ آ سکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق راجستھان میں شادیوں کے ایک بڑے سیزن کے دوران 6600 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس ہو سکتا ہے۔ یہ رقم صرف ہوٹل یا وینیو تک محدود نہیں، اس میں ڈیکوریشن، کیٹرنگ، مقامی ٹرانسپورٹ، فنکار، سیاحت اور چھوٹے کاروبار تک سب شامل ہیں۔ یعنی ایک شادی یہاں پوری مقامی معیشت کو چلاتی ہے۔ راجستھان کی مقبولیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ روایتی شہروں جے پور، ادے پور اور جودھ پور میں جگہ کم پڑنے لگی ہے۔ صرف رنتھمبور میں قریب 40 وینیو اور 400 سے زیادہ ویڈنگ ایونٹ ہوتے ہیں، جبکہ جیسلمیر میں تقریباً 25 وینیو اور 200 سے زیادہ شادیاں ہوتی ہیں۔ راجستھان نے خود کو شادیوں کے لیے ’لگژری برانڈ‘ بنا لیا ہے۔ اور جب کسی جگہ کا نام ہی اسٹیٹس سمبل بن جائے، تو سمجھ لیجیے مارکیٹنگ کامیاب ہو چکی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































