ریاضی نہیں، مہورت! طلبہ کو جدید علم سے دور لے جاتا یو جی سی کا نصاب

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 7, 2025507 Views


ہندوستان میں علمِ نجوم اور فلکیات کو الگ کرنے کی لمبی جدوجہد رہی ہے۔ 2004 میں سپریم کورٹ نے تنازعہ کے باوجود نجوم کو ’سائنس‘ قرار دے دیا تھا، لیکن علمی برادری ہمیشہ اس کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ ریاضی کے نصاب میں مہورت کو ادارہ جاتی حیثیت دینا دراصل طلبہ کو یہ باور کرانا ہے کہ نجومی تقدیر پسندی بھی اتنی ہی مستند ہے جتنی الجبرا کی منطق اور یہ کھلی بددیانتی ہے۔

یو جی سی کا یہ نصاب محض تدریسی پالیسی نہیں بلکہ ہندوتوا کی سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ہر جدید سائنسی ایجاد پہلے ہی ہندو متون میں موجود تھی۔

یہ رویہ دو بنیادی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے:

– آج کے طلبہ عالمی علمیات میں مقابلہ کر رہے ہیں، اور ان کے لیے ریاضیاتی مہارتیں جیسے لینئر الجبرا، شماریات، مشین لرننگ اور کمپیوٹیشنل ماڈلنگ زیادہ اہم ہیں۔

– ریاضی کی تاریخ پڑھنے کا مقصد تنقیدی جائزہ لینا ہے، نہ کہ قدیم تصورات کو حتمی سچائی کے طور پر نصاب میں ٹھونس دینا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...