
عدالت نے اس دلیل کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ متعینہ مدت کے بعد بل کو از خود منظور شدہ یعنی ڈی مڈ اسینٹ سمجھا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ہندوستانی دستور میں ایسی کوئی شق موجود نہیں، اور نہ ہی عدالت کو یہ اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 142 کے تحت اس طرح کی کوئی منظوری فراہم کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بل کی منظوری یا اعتراض کا اختیار مکمل طور پر گورنر اور صدر کے دائرہ کار میں آتا ہے، اس میں عدلیہ کا براہِ راست عمل دخل نہیں ہوسکتا۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ گورنر صرف ’ربر اسٹیمپ‘ کا کردار ادا نہیں کرتے، لیکن منتخب حکومت ہی انتظامیہ کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر دو لوگ نہیں بیٹھ سکتے، اس لیے گورنر کو عمومی معاملات میں وزارتی کونسل کی مشاورت ماننا ہی پڑتی ہے۔ تاہم کچھ مخصوص اور غیر معمولی حالات میں وہ محدود دائرے میں اپنا آئینی اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔






