
کانگریس کے مطابق 2025 کے دوران ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ تقریباً 6.03 فیصد کمزور ہوا، جو ایشیائی خطے کی بڑی کرنسیوں میں سب سے زیادہ گراوٹ ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ اسی مدت میں چین کا یوآن نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک اپنی معیشت کو سنبھالنے میں ہندوستان سے آگے نکل گئے ہیں۔
کانگریس نے بدھ کے روز اپنے سرکاری سوشل میڈیا پیج پر جاری بیان میں کہا کہ روپے کی اس گراوٹ کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق کمزور روپیہ درآمدات کو مہنگا بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل، الیکٹرانکس اور سونے جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی بڑھتی ہے، روزمرہ ضروریات، ایندھن اور گھریلو اخراجات پر بوجھ بڑھتا ہے اور متوسط و کم آمدنی والے طبقے کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔






