
وہیں دوسری طرف روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے جوہری پاور پلانٹس کو پیداوار کم کرنا پڑا ہے اور موسم سرما کے دوران ملک میں بجلی کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ امریکہ نے ایک بار پھر توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔ یوکرین نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم روس نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ہفتے کے روز ایک روسی ڈرون حملے نے یوکرین کے علاقے پاولوہراڈ میں کان کنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا۔ جس میں 15 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔ بس میں آگ لگ گئی جسے فائر فائٹرز نے بجھایا۔






