سپریم کورٹ نے تمل ناڈو بجلی بورڈ کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ دراصل تمل ناڈو بجلی بورڈ صارفین کو مفت بجلی دینے کا وعدہ کر رہا ہے۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ ریاستوں میں اپنائی گئی مفت سہولیات کی ثقافت معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ جس میں چیف جسٹس سوریا کانت سمیت دیگر جج شامل ہیں، نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ریاستیں پہلے ہی خسارے میں ہیں، پھر بھی وہ ترقی کو چھوڑ کر مفت سہولیات بانٹ رہی ہیں۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جو لوگ ادائیگی نہیں کر سکتے انہیں امداد دینا سمجھ میں آتا ہے، لیکن امیر اور غریب میں فرق کیے بغیر سب کو مفت دینا غلط پالیسی ہے۔ اس دوران عدالت نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، سائیکل اور بجلی ملتی رہی تو لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا۔‘‘
سپریم کورٹ نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ مفت چیزیں تقسیم کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے پوچھا کہ ہندوستان میں ہم کیسی ثقافت بنا رہے ہیں؟ کیا یہ ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی نہیں بن جائے گی؟ فی الحال سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اب اگلی سماعت میں طے ہوگا کہ ایسی مفت بجلی کے منصوبوں پر کس طرح کے قوانین نافذ ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ مفت منصوبہ کا معاملہ اس لیے بڑا ہے کہ کئی ریاستوں میں انتخاب سے قبل مفت اسکیموں کا اعلان ہوتا ہے اور اس سے سرکاری اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے معاشی توازن بگڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے صاف پیغام دیا ہے کہ غریبوں کی مدد ضروری ہے، لیکن سوچے سمجھے بغیر سب کو مفت سہولیات دینا ملک کی ترقی کے لیے درست نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کرٹ نے کہا کہ ہم صرف تمل ناڈو کے تناظر میں ہی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم اس حقیقت پر غور کر رہے ہیں کہ انتخاب سے عین قبل ہی کیوں منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین سماجیات کو اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کب تک چلتا رہے گا؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































