جیسے ہی جے این یو (جواہر لعل نہرو یونیورسٹی) کا خیال ذہن میں آتا ہے ایک ایسی یونیورسٹی کی تصویر ابھرتی ہے جہاں کمیونسٹ افکار و نظریات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا اکیڈمک کیمپس، جسے ہماری قومی سیاست میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن ان سب کے علاوہ بھی جے این یو کی ایک خاص انفرادیت اور منفرد شناخت ہے جو اس تعلیمی ادارے کو دوسری یونیورسٹیوں سے مختلف بناتی ہے، اور وہ ہے اس کا جمہوری و انسانی کردار۔


میرا تعلق بھی اس یونیورسٹی سے رہا ہے جو ان ہزاروں طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت دیتا ہے جن کے لیے معاشی وسائل کی عدم دستیابی کے سبب اعلیٰ تعلیم کا حصول محض ایک خواب ہے۔ مادر علمی جے این یو کے بارے میں ایک بات پورے وثوق سے کہی جاتی ہے، وہ یہ کہ یہاں ہندوستان کی سچی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے۔ شمال تا جنوب ملک کے کونے کونے سے ہزاروں طلبہ تعلیم کے اس مرکز میں جمع ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی منفرد تہذیب و تمدن کی جھلکیاں پیش کر کیمپس کے ماحول کو خوش گوار بناتے ہیں۔ جے این یو کے ہاسٹل میں میں ہر سال منعقد ہونے والا اجتماعی افطار ایسا ہی ایک منفرد اور خوبصورت پروگرام ہے، جسے اس ممتاز ادارے کی دیرینہ تہذیبی روایات کا آئینہ دار کہا جا سکتا ہے۔


جے این یو سے وابستہ ماضی کی بے شمار یادوں میں سے چند مخصوص یادوں کا تعلق جہلم ہاسٹل اور یہاں منعقد ہونے والی افطار پارٹی سے ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب پہلی بار گھر سے باہر رمضان المبارک کی آمد ہو رہی تھی۔ ہاسٹل کی زندگی، کلاسز اور یونیورسٹی لائبریری… ان سب کے درمیان سحری و افطار کا نظم! آخر کس طرح ہوگا یہ سب۔ یہ سوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہا تھا۔ مجھے ہاسٹل میں داخل ہوئے ابھی چند ہی مہینے ہوئے تھے۔ لہذا مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ ہاسٹل کے مسلم طلبہ کے لیے ’میس کمیٹی‘ سحری و افطار کا کچھ الگ سے انتظام کرے گی، یا ہمیں اپنے طور پر ہی کچھ کرنا ہوگا۔


میرے ذہن میں گردش کر رہے ان سوالات کا جواب ہاسٹل کے مین گیٹ پر چسپاں نوٹس کی شکل میں ملا۔ اس نوٹس کو ہاسٹل کی افطار کمیٹی کی جانب سے لگایا گیا تھا۔ جس میں اس شام ہونے والی ایک میٹنگ کی اطلاع دی گئی تھی۔ افطار کمیٹی کی اس میٹنگ میں شریک ہو کر نہ صرف یہ کہ میرے تمام خدشات دور ہو گئے، بلکہ وہاں یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہاں کی افطار کمیٹی ہاسٹل انتظامیہ کے تعاون سے پورے مہینے سحری و افطار کا انتظام بہ حسن و خوبی کرتی ہے۔ اس پورے پروگرام کو کامیاب بنانے میں میس اسٹاف اور یہاں کے غیر مسلم طلبہ خصوصی طور پر دست تعاون دراز کرتے ہیں۔


رمضان کی پہلی تاریخ کو ہاسٹل میس کے ڈائننگ ہال میں اجتماعی افطار کا خوبصورت منظر دیکھ کر دل خوشی و مسرت کے جذبہ سے سرشار ہو اٹھا۔ اس اجتماعی افطار کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں ہم اپنے غیر مسلم دوستوں کو بھی مدعو کرتے تھے۔ اجتماعی افطار کے اس پرتکلف اہتمام کے بعد میس کی چھت پر مغرب کی نماز باجماعت ادا کی گئی، اور پھر پورے ماہ یہی معمول رہا۔


رمضان کے مبارک ایام میں افطار کمیٹیاں یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز میں اسی انداز میں متحرک ہو کر اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ان کی یہ عملی کاوشیں لائق تحسین بھی ہیں اور قابل تقلید بھی۔ ان صالح کوششوں کے نتیجہ میں ہی سینکڑوں مسلم طلبہ کو دیار غیر میں رمضان کریم کی رونقیں نصیب ہوتی ہیں۔ یہ باتیں اس لیے تحریر کی جا رہی ہیں کہ ان آنکھوں نے جے این یو کیمپس میں سحری و افطار کے ساتھ ساتھ صلاۃ تراویح کا روح پرور منظر بھی دیکھا ہے۔ چونکہ یہاں کے مسلم طلبہ میں اکثر مدارس کے فارغین بھی ہوتے ہیں، لہذا ہر ہاسٹل میں ایک طے شدہ مقام پر نماز تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


ہمارے زمانے میں تاپتی ہاسٹل کے لان میں سنٹرل تراویح ہوتی تھی، جس میں 300 سے زائد طلبہ شریک ہوتے تھے۔ ان روحانی اجتماعات کے پیچھے یونیورسٹی انتظامیہ، ہاسٹل وارڈن اور یہاں کے ہزاروں غیر مسلم طلبہ کا غیر معمولی تعاون شامل ہوتا رہا ہے۔ ان کے اس انسانی و اخلاقی جذبہ کا اعتراف کرنے کے لیے یونیورسٹی کی تمام افطار کمیٹیاً 2 خصوصی پروگرامز منعقد کرتی ہیں۔ ’گرانڈ افطار‘ اور ’عید ملن تقریب‘۔ ’گرانڈ افطار‘ ہر ہاسٹل کی افطار کمیٹی اپنے طور پر منعقد کرتی ہے، جس میں ہاسٹل کے تمام غیر مسلم طلبہ خصوصی طور پر مدعو کیے جاتے ہیں۔ اس اجتماع کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں یونیورسٹی وائس چانسلر سمیت ہاسٹل وارڈن بھی شریک ہوتے ہیں۔ افطار سے 10 منٹ قبل ایک مسلم طالب علم اپنے معزز مہمانان کے سامنے روزہ کے سماجی و اخلاقی پہلوؤں کے بارے میں مختصر گفتگو پیش کرتا ہے تاکہ اس اسلامی فریضہ کے بارے میں غیر مسلم حضرات بھی واقف ہو سکیں۔ میں اور میرے تمام احباب ان خصوصی تقریبات میں لازمی طور پر شریک ہوتے رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک خصوصی افطار پارٹی تاپتی ہاسٹل میں منعقد ہوئی تھی جس کو میں کبھی نہیں بھول پاتا۔ اس کی بنیادی وجہ اس وقت کے وائس چانسلر اور تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر سدھیر کمار سوپوری کی سادگی اور ان کی انسانیت نوازی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ وہ ’گرانڈ افطار‘ کی اس تقریب میں کچھ تاخیر سے پہنچے۔ افطار کا وقت ہوچکا تھا اور تمام نششتیں پُر ہو چکی تھیں۔ شرکائے محفل اس پرتکلف دعوت افطار سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے۔ کہیں جگہ نہ پا کر وہ سب سے آخری نششت میں چند طلبہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اچانک افطار کمیٹی کے ذمہ داران کی نگاہ ان پر پڑی اور انہیں آناً فاناً میں آگے بلا کر مخصوص نششت پر بٹھایا گیا۔
اس واقعہ نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ یہی وہ سادگی اور پرکاری کا حسن امتزاج ہے جو جے این یو کو دوسرے تعلیمی اداروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ویسے بدلتے وقت کے ساتھ جے این یو بھی اب کافی حد تک بدل چکا ہے۔ اب پہلے کی طرح وائس چانسلر یہاں کی دعوت افطار میں شریک نہیں ہوتے اور نہ ہی اب یہاں پہلے کی طرح سحری و افطار کی رونقیں قلب و نظر کو سرشار کرتی ہیں۔ شاید یہاں کی آب و ہوا میں بھی فرقہ پرستی کا رنگ گھل چکا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































