
وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2025-26 پیش کیا، جسے حکومت نے ’وکست بھارت‘ کے وژن پر مبنی قرار دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اس بجٹ میں صحت، دفاع، زراعت، نوجوانوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں پر توجہ دی گئی ہے تاکہ معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔ تاہم بجٹ پیش ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور اسے عوامی مسائل سے کٹا ہوا قرار دیا گیا۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی بجٹ پر سب سے سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں، گرتی ہوئی مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاروں کے سرمائے کے انخلا، گھریلو بچت میں تیز گراوٹ اور کسانوں کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔




