
انوراگ ڈھانڈا نے کھلے الفاظ میں کہا کہ راگھو چڈھا گزشتہ چند برسوں سے خوف کا شکار نظر آتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو شخص ڈر جائے وہ ملک کے لیے کیسے لڑ سکتا ہے۔ ڈھانڈا نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان میں پارٹی کو جو محدود وقت ملتا ہے، اسے سنجیدہ قومی مسائل اٹھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ معمولی معاملات جیسے ’ایئرپورٹ کینٹین میں سموسے سستے کرانے‘ کے لیے۔
سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا انہوں نے گجرات میں گرفتار کیے گئے پارٹی کارکنوں کے حق میں آواز اٹھائی؟ انہوں نے مغربی بنگال میں جمہوریت سے متعلق معاملات پر بھی چڈھا کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں محدود وقت کا مؤثر استعمال ضروری ہوتا ہے، مگر چڈھا اس ذمہ داری کو نبھاتے نظر نہیں آ رہے۔






