
اسی طرح میرٹھ اور بجنور میں بھی بی کے یو کے کارکنوں نے جیل بھروے اور تھانہ گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ موانہ میں کسانوں نے سی او آفس کا گھیراؤ کیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ٹکیت کو رہا نہیں کیا جاتا وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ کسان لیڈر کی گرفتاری کے سبب شروع ہوئے دھرنے اور مظاہروں کے درمیان اترپردیش کی سیاست میں ایک بار پھر گھمسان مچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔






