
اس پر راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ڈولا سین کا دفاع کیا اور حکومت پر بحث محدود کرنے کا الزام لگایا۔ کھڑگے نے کہا کہ سین نے کوئی غیر شائستہ لفظ استعمال نہیں کیا اور ان کی گفتگو بنیادی طور پر اسی فیصلے سے جڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایوان کے لیڈر یہ طے نہیں کر سکتے کہ کون سی بات ریکارڈ میں رہے گی اور کون سی نہیں، یہ دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے اور پارلیمانی روایت کے منافی ہے۔‘‘
نڈا نے کھڑگے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی پر دباؤ نہیں ڈالا بلکہ صرف قواعد کے مطابق گفتگو کو موضوع تک محدود رکھنے کی گزارش کی تھی۔ چیئرمین نے بھی یہی دوہرایا کہ وقفہ صفر کے دوران ارکان کو صرف اپنے طے شدہ موضوعات پر ہی بولنا چاہیے۔






