اڈیشہ میں راجیہ سبھا انتخاب کے دوران کراس ووٹنگ کرنے والے بی جے ڈی اراکین اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ بی جے ڈی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے 6 اراکین اسمبلی کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے۔ دراصل ان اراکین اسمبلی نے پارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’پارٹی کے ذریعہ مل کر فیصلہ لینے کے عمل‘ کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے انھیں اسمبلی رکنیت سے معطل کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی سبھی اراکین اسمبلی کے ذریعہ جمع کیے گئے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ کے جوابوں کی جانچ اور بی جے ڈی ڈسپلنری کمیٹی کے ذریعہ پوری طرح سے تجزیہ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ معطل کردہ اراکین اسمبلی میں چکرمنی کنہار، نبا کشور ملک، سوویک بسوال، سباسنی جینا، رماکانت بھوئی اور دیوی رنجن ترپاٹھی شامل ہیں۔
ایک بیان میں بی جے ڈی صدر اور پارٹی چیف نوین پٹنایک نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کا آئین اپنے اراکین سے مکمل وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس قدم کو ڈسپلن کو مضبوط کرنے اور پارٹی کے تئیں ایماندار بنائے رکھنے کی سمت میں ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معطلی سبھی پارٹی لیڈران کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے، یعنی پارٹی کے اجتماعی فیصلوں سے کسی بھی عدم اتفاق کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بی جے ڈی کا مقصد اپنے سیاسی ایجنڈا کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے اپنے رینکوں میں اتحاد و ڈسپلن بنائے رکھنا ہے۔
واضح رہے کہ راجیہ سبھا انتخاب 16 مارچ کو ہوا تھا۔ اڈیشہ کی 4 راجیہ سبھا سیٹوں میں سے 2 سیٹوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی تھی، جبکہ بی جے ڈی اور بی جے پی حامی آزاد امیدوار کو ایک ایک سیٹ پر جیت ملی تھی۔ اڈیشہ اسمبلی میں مجموعی طور پر 147 اراکین اسمبلی ہیں۔ برسراقتدار بی جے پی کے حامی اراکین و آزاد اراکین اسمبلی کی تعداد 82 تھی، لیکن راجیہ سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدوار کو پہلی پسند کی شکل میں مجموعی طور پر 93 ووٹ ملے، جو ان کی حقیقی تعداد سے 11 زیادہ تھے۔ ان 11 اضافی ووٹ میں 8 ووٹ بی جے ڈی اراکین اسمبلی اور 3 ووٹ کانگریس اراکین اسمبلی کے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































