
نشست میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ اگرچہ ان کے اردو اشعار محدود ہیں، مگر وہ اپنی سلاست، تہذیبی نزاکت اور فکری چمک کی وجہ سے آج بھی حوالہ بنتے ہیں۔ اسی سلسلے میں موزوںؔ کی ایک معروف غزل اور اس کا وہ شعر بھی زیرِ بحث آیا جسے نواب سراج الدولہ کی شہادت کے پس منظر میں خراجِ عقیدت کے طور پر پڑھا گیا تھا:
غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر، کو ویرانے پہ کیا گزری
ویڈیو میں موزوںؔ کی ادبی اہمیت، تذکرہ نویسی کی روایت، تحقیق کی دستیاب صورت حال اور ان کے کلام کی خصوصیات پر مدلّل روشنی ڈالی گئی ہے۔





