
نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ میں راجستھان کانگریس کے صدر گووند ڈوٹاسرا اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی نے ریاست میں اسپیشل انٹینسِو ریویژن یعنی ایس آئی آر کے عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ دونوں رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کی فہرست میں منظم انداز سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اس کا مقصد کانگریس کی حمایت کرنے والے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔
گووند ڈوٹاسرا نے کہا کہ ایس آئی آر کے بعد جو ڈرافٹ لسٹ جاری ہوئی، اس میں 45 لاکھ افراد کو غیر حاضر، منتقل شدہ یا متوفی کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ ان کے مطابق اس فہرست پر اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 جنوری مقرر کی گئی تھی اور 3 جنوری تک پورا نظام معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ 3 جنوری کو بی جے پی کے اعلیٰ تنظیمی عہدیدار کے ریاستی دورے کے بعد صورتحال بدل گئی اور جعلی طریقوں سے ووٹ جوڑنے اور کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوا۔






