
نئی دہلی: دیوالی سے ایک روز قبل دہلی اور این سی آر کی فضا ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کمیشن برائے ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے اتوار، 19 اکتوبر کو راجدھانی میں اوسط آلودگی کی سطح 296 ریکارڈ کیے جانے کے بعد گریپ (جی آر اے پی، گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان) کے دوسرے مرحلے یعنی ’گریپ۔2‘ کو فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی دہلی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں کئی سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں تاکہ آلودگی میں اضافہ روکا جا سکے۔
گریپ-2 کے تحت دہلی-این سی آر میں ڈیزل سے چلنے والے گھریلو جنریٹرز کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ البتہ فیکٹریوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر بجلی دستیاب نہ ہو تو وہ عارضی طور پر ڈیزل جنریٹر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے۔





