دیمک ہیں، تبھی مٹی زندہ ہے… پنکج چترویدی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 18, 2026358 Views


ہم شہر میں دیمک کو خود سے دور رکھنے کے لیے بھلے ہی جراثیم کش کا استعمال کریں، لیکن زراعت اور ماحولیات کے لیے یہ دیمک انتہائی ضروری ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>دیمک</p></div><div class="paragraphs"><p>دیمک</p></div>

i

user

کندھمال ضلع کو اڈیشہ کا کشمیر کہا جاتا ہے۔ یہاں کے درین گباڑی علاقہ کے کسانوں کو تشویش ہے کہ ان کے کھیتوں اور جنگلات سے ’اوئی ہنکا‘ تیزی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ ’اوئی ہنکا‘ سے مراد دیمک کے ٹیلے (بامبیاں) ہیں۔ ملک بھر کے شہری علاقوں میں رہنے والے ہم لوگ دیمک سے نجات کے لیے کیمیائی جراثیم کش ادویات اور دیمک کش دواؤں کا اندھا دھند استعمال کرنے والی مختلف ایجنسیوں پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جنگل اور کھیتوں میں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ دیمک کے ختم ہونے سے نہ صرف مٹی کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ قدرتی طور پر زمین سے پانی کھینچنے کے نظام کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔

کندھمال ضلع میں بنیادی طور پر کانڈھ قبیلہ آباد ہے، جس میں کٹیا کانڈھ اور ڈونگریا کانڈھ خاص طور پر کمزور قبائلی گروہ (پی وی ٹی جی) میں شامل ہیں۔ ان کا بنیادی پیشہ نامیاتی ہلدی کی کاشت اور جنگلی پیداوار جیسے مہوا، شہد اور املی کو جمع کر کے فروخت کرنا ہے۔ قبائلیوں کا ماننا ہے کہ ’اوئی ہنکا‘ کا کم ہونا یا ختم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ زمین خطرے میں ہے۔ اڈیشہ کے بالاسور میں تو 30 فٹ اونچے دیمک کے ٹیلے پر باقاعدہ میلہ لگتا ہے۔

دیمک کے ٹیلے، یعنی اونچے مٹی کے ڈھیر، جنگل کے باشندوں کے نزدیک نہایت مقدس ہوتے ہیں۔ لیکن یہ درین گباڑی کے جنگلات سے آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلی اور بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی ہیں۔ درین گباڑی پہاڑوں اور گھنے جنگلات سے گھرا ہوا ہے اور یہاں ندیاں، چشمے، متنوع نباتات اور سینکڑوں اقسام کے دواؤں والے پودے پائے جاتے ہیں۔ پہلے یہاں بے شمار دیمک کے ٹیلے ہوتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ان کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔

دیمک ہیں، تبھی مٹی زندہ ہے… پنکج چترویدیدیمک ہیں، تبھی مٹی زندہ ہے… پنکج چترویدی

دیمک کے ٹیلوں کی ساخت فطرت کے حیرت انگیز عجائبات میں سے ایک ہے۔ اسے اگر ’حشرات کی تعمیر کردہ اعلیٰ ترین معماری‘ کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ باہر سے یہ محض مٹی کا ایک بے جان ڈھیر نظر آتا ہے، لیکن اندر سے یہ ایک جدید شہر کی طرح منظم اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ اس کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ باہر شدید گرمی ہو یا سردی، اندر کا درجہ حرارت ہمیشہ متوازن رہتا ہے۔ دیمک اپنے ٹیلے کو اس طرح بناتے ہیں کہ اس میں قدرتی ہوا کا گزر (وینٹیلیشن) جاری رہے۔ اس کے اندر باریک سوراخ اور عمودی نالیاں ہوتی ہیں، جن کے ذریعہ گرم ہوا اوپر نکل جاتی ہے اور ٹھنڈی تازہ ہوا نیچے سے داخل ہوتی ہے، بالکل کسی جدید عمارت کے سنٹرل ایئر کنڈیشننگ نظام کی طرح۔

دیمک کی سوسائٹی میں کام کی واضح تقسیم ہوتی ہے۔ ملکہ دیمک پورے خاندان کی ماں ہوتی ہے اور اس کا بنیادی کام صرف انڈے دینا ہوتا ہے۔ وہ ایک دن میں 20 ہزار سے 30 ہزار تک انڈے دے سکتی ہے اور اس کی عمر 15 سے 25 سال تک ہو سکتی ہے۔ بعض قبائلی انہیں پکڑ کر بھون کر بھی کھاتے ہیں۔ بادشاہ دیمک پوری زندگی ملکہ کے ساتھ رہتا ہے اور افزائش نسل میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔ مزدور دیمک سب سے بڑی تعداد میں ہوتے ہیں اور خوراک جمع کرنا، ٹیلے کی مرمت، بچوں کی دیکھ بھال اور ’فنگس باغات‘ کی کاشت انہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ فوجی دیمک کے سر بڑے اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں اور ان کا کام دشمنوں، خاص طور پر چیونٹیوں، سے حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

ٹیلے کے محفوظ ترین حصہ میں ملکہ کا کمرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اندر ’فنگس باغات‘ بھی ہوتے ہیں، جہاں دیمک لکڑی کے ریشوں پر خاص قسم کی فنگس اگاتے ہیں، جو لکڑی کو نرم اور قابلِ ہضم بناتی ہے۔ یہ ایک طرح کی اندرونی کھیتی ہے جو دیمک لاکھوں برس سے کرتے آ رہے ہیں۔ دیمک اپنے ٹیلے بنانے کے لیے مٹی، اپنے فضلے اور لعاب کے آمیزے کا استعمال کرتے ہیں، جو خشک ہونے کے بعد کنکریٹ جیسا مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی مضبوطی انہیں بارش اور شکاریوں سے بچاتی ہے۔ بعض ٹیلے 5 سے 6 فٹ تک اونچے ہوتے ہیں۔ دیمک کا ٹیلہ صرف رہائش نہیں بلکہ ایک زندہ نظام ہے جو نمی، آکسیجن اور خوراک کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ پت جھڑ کے بعد دیمک پتے کھا کر چند ہی دنوں میں انہیں زرخیز مٹی میں بدل دیتے ہیں، جس پر قبائلی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

شہری لوگوں کی نظر میں دیمک صرف ایک نقصان دہ کیڑا ہے، جو خاموشی سے لکڑی اور فصلوں کو کھا جاتا ہے۔ ’دیمک کی طرح چاٹ جانا‘ محاورہ بھی تباہی کی علامت ہے۔ لیکن حقیقت میں دیمک فطرت کے وہ خاموش انجینئر ہیں جن کے بغیر جنگلات کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے اور ہماری زمین بنجر ہو سکتی ہے۔ دیمک کا سب سے اہم کردار سیلولوز کے انہضام میں ہے۔ اگر دیمک نہ ہوں تو مردہ لکڑی اور پتے جمع ہو کر ڈھیر بن جائیں۔ دیمک اپنے جسم میں موجود خرد حیاتیات کی مدد سے انہیں توڑ کر مٹی میں شامل کر دیتے ہیں، جس سے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے عناصر دوبارہ مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے انہیں فطرت کا سب سے بڑا صفائی کرنے والا اور کھاد بنانے والا کہا جاتا ہے۔

دیمک ہیں، تبھی مٹی زندہ ہے… پنکج چترویدیدیمک ہیں، تبھی مٹی زندہ ہے… پنکج چترویدی

حالیہ بین الاقوامی تحقیقات، خصوصاً ’سائنس‘ جریدے میں شائع مطالعات کے مطابق خشک سالی کے دوران دیمک پودوں کے لیے زندگی بچانے والا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنی سرنگوں کے ذریعے زمین کی گہرائی سے نمی اوپر لاتے ہیں، جس سے پودے سخت گرمی میں بھی زندہ رہتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ دیمک کے ٹیلوں کے آس پاس کی نباتات زیادہ سرسبز ہوتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دیمک ایک مکمل ماحولیاتی نظام بناتے ہیں۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ دیمک کی پہلی پسند مردہ نامیاتی مادہ ہوتا ہے، نہ کہ زندہ فصلیں۔ جب کھیت سے سارا نامیاتی مواد ختم ہو جاتا ہے، تب ہی وہ زندہ پودوں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر مٹی میں مناسب نامیاتی مواد موجود ہو تو دیمک دشمن نہیں بلکہ زرخیزی بڑھانے والے سستے اور مؤثر مزدور ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی مٹی میں نائٹروجن کی مقدار 50 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔

دیمک کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مٹی زندہ ہے۔ لیکن جدید زراعت میں کیمیائی ادویات کے بے جا استعمال سے نہ صرف نقصان دہ بلکہ مفید دیمک بھی ختم ہو رہے ہیں۔ ایک بار کالونی ختم ہو جائے تو دوبارہ بننے میں 10 سے 15 سال لگ جاتے ہیں، جبکہ مشینیں ایک دن میں اسے تباہ کر دیتی ہیں۔ جنگلات میں بھی صفائی، پتے جلانا اور ایندھن کے لیے لکڑی کا استعمال دیمک کی خوراک کو ختم کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں چیونٹی خور جانور، رینگنے والے جاندار اور کئی پرندے بھی کم ہو رہے ہیں، جو ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشاندہی ہے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...