
ای میل میں واضح طور پر ججوں کے کمروں کا حوالہ دیا گیا اور اسے جمعہ کے روز دھماکوں سے جوڑتے ہوئے پاکستان اور تمل ناڈو کی مبینہ ملی بھگت کا ذکر بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج رومز میں تین بم نصب ہیں۔ اس اطلاع نے فوراً سیکورٹی ایجنسیوں کو حرکت میں لا دیا۔
دہلی پولیس نے تیزی کے ساتھ حفاظتی پروٹوکول نافذ کرتے ہوئے ججز، وکلا اور عدالت میں موجود دیگر افراد کو باہر نکالا۔ احاطہ خالی کرایا گیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ سمیت اسپیشل سیل کی ٹیموں نے موقع پر تلاشی شروع کر دی۔ تاہم، دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے بعد میں کہا کہ یہ ایک ’ہوکس کال‘ (افواہ) ہے لیکن اس کے باوجود حفاظتی اقدامات میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔






