
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ روزانہ 80 کروڑ لیٹر سے زیادہ ’اَن ٹریٹیڈ سیوریج‘ براہِ راست جمنا میں ڈالا جاتا ہے، 4.4 کروڑ لیٹر صنعتی فضلہ بھی دریا میں بہایا جاتا ہے اور جمنا میں چھوڑے جانے سے پہلے جو گندہ پانی صاف کیا جاتا ہے وہ مجموعی تخمیناً خارج ہونے والے فضلہ کا صرف 35 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کی رپورٹ کے مطابق مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے جون میں بتایا تھا کہ اصغر پور میں فیکل کولیفارم کی سطح 24,00,000 ایم پی این (سب سے زیادہ ممکنہ تعداد) فی 100 ملی لیٹر پائی گئی، جو نہانے کے لیے محفوظ سمجھی جانے والی حد 500 ایم پی این/100 ملی لیٹر سے 4,800 گنا زیادہ تھی۔ مئی میں یہ سطح 23,00,000 ایم پی این/100 ملی لیٹر تھی، جو مطلوبہ حد سے 4,600 گنا زیادہ تھی۔ رپورٹ میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ پلا کو چھوڑ کر دہلی میں جہاں کہیں بھی پانی کے نمونے جانچ کیے گئے، وہاں فیکل کولیفارم کی سطح مطلوبہ اور ’زیادہ سے زیادہ قابلِ قبول‘ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی۔






