دہلی میں کئی اٹل کینٹین بند، ہاسٹل میس سے لنگر تک سلنڈر کی قلت

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 17, 2026358 Views


مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت بھلے ہی ایل پی جی کی قلت سے انکار کر رہی ہے، لیکن گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ رہےہیں۔ وہیں، دہلی میں کچھ اٹل کینٹین بند ہیں، کئی ہاسٹل میس اور گردواروں کے لنگر بھی سلنڈر کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ملک میں ایل پی جی گیس کی قلت سے جوجھتے لوگوں کے ویڈیو مسلسل سوشل میڈیا پر سامنے آ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت بھلے ہی کسی قلت سے انکار کر رہی ہو، لیکن عوام میں اس کو لے کر بے چینی اور گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں ضرور دیکھی جا رہی ہیں۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت گھبراہٹ میں کی گئی بکنگ کی وجہ سے ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی کی کمی سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق کھانا پکانے اور روشنی کرنےکے لیے 48 ہزار کلو لیٹر سے زیادہ مٹی کے تیل (کیروسین) کا انتظام کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، دہلی میں وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے ضرورت مند افراد کو پانچ روپے میں دوپہر اور رات کا کھانا فراہم کرنے والی کئی اٹل کینٹین کے بند ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے گزشتہ سال 25 دسمبر کو ساؤتھ دہلی کے نہرو نگر واقع پرتاپ کیمپ میں جس پہلی اٹل کینٹین کا افتتاح کیا تھا، وہ سوموار (16 مارچ) دوپہر کو بند تھی۔

اخبار کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور کھانا پکانے کے ایندھن کے بحران کی وجہ سے اسے بند کیا گیا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال کالکاجی اور انا نگر میں واقع کم از کم دو دیگر اٹل کینٹین کا بھی دیکھا گیا۔ کینٹین کے دروازے پر چسپاں نوٹس میں لکھا تھا،’گیس آنے تک کینٹین بند رہے گی۔’

دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں بھی گیس سپلائی میں کمی کا اثر اب کیمپس کی کینٹین اور ہاسٹل میس پر نظر آنے لگا ہے۔ گیس کی محدود دستیابی کے باعث کئی جگہ کھانے کے مینو میں تبدیلی کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے طلبہ میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

اس سلسلے میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین نے سوموار (16 مارچ) کو اعلان کیا کہ اس مسئلے کے خلاف طلبہ مارچ نکالیں گے۔

گردواروں کے لنگر بھی اس بحران سے متاثر نظر آ رہے ہیں۔ دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی نے مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ تاریخی گردواروں میں لنگر سروس کے لیے رسوئی گیس کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رکھی جائے۔

مڈ ڈے میل میں گول گپے

دارالحکومت کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی گیس سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سامنے آئی ہے۔ مغربی بنگال سے ایک ویڈیو ان دنوں انسٹاگرام پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سرکاری اسکول میں گیس کی کمی کے باعث بچوں کو مڈ ڈے میل میں گول گپے  کھلائے گئے۔

اس ویڈیو میں اسکول کے کیمپس کے اندر گول گپوں کا اسٹال لگا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک خاتون ٹیچر اس منظر کو اپنے موبائل میں ریکارڈ کر رہی ہیں اور بنگالی میں کہہ رہی ہیں کہ اسکول کے بچے مڈ ڈے میل میں گول گپے کھا رہے ہیں کیونکہ گیس ختم ہو گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس دوران ملک کی کئی ریاستوں جیسے بہار، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش سمیت دیگر علاقوں سے بھی رسوئی گیس کی قلت کی شکایتیں سامنے آ رہی ہیں۔ کئی جگہ گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ کہیں کئی دنوں کی بکنگ کے باوجود لوگوں تک گیس نہیں پہنچ پا رہی۔

ایسے میں عام لوگ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

کئی ریاستوں میں حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

غور طلب ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں گیس اور تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی میں غیر یقینی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک اپنی سالانہ کھپت کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ کے ممالک پر منحصر ہے، جو بالواسطہ طور پر اسرائیل، امریکہ اور ایران کے تنازعہ میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بھی یہ بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...