دہلی میں فضائی آلودگی صحت کے لیے دن بہ دن خطرناک ہوتی جا رہی، حالات گزشتہ سال سے بھی بدتر: اجئے ماکن

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 12, 2026358 Views


اجئے ماکن نے کہا کہ شہر کے تمام 10 مانیٹرنگ اسٹیشن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب حالت میں ہیں اور سبھی مقامات پر آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت کے مقررہ محفوظ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن، تصویر یو این آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن، تصویر یو این آئی</p></div>

i

user

دہلی میں بڑھتی فضائی آلودگی معاملہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے خزانچی اجئے ماکن نے آج ایک بار پھر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی ہوا اب عوامی صحت کے لیے ہنگامی صورت حال اختیار کر چکی ہے اور آلودگی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

اجئے ماکن کے مطابق 12 مارچ 2026 تک کے 7 روزہ اوسط (رولنگ میڈین) پی ایم 2.5 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی کے تمام بڑے مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مندر مارگ اسٹیشن پر پی ایم 2.5 کی سطح 140 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 125 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح آر کے پورم میں 120 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (58 فیصد اضافہ)، این ایس آئی ٹی دوارکا میں 104 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (59 فیصد اضافہ)، اوکھلا فیز-2 میں 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (50 فیصد اضافہ) اور پنجابی باغ میں 116 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (36 فیصد اضافہ) ریکارڈ کیا گیا۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ شہر کے تمام 10 مانیٹرنگ اسٹیشن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب حالت میں ہیں اور سبھی مقامات پر آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقررہ محفوظ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پی ایم 2.5 کی محفوظ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جبکہ ہندوستانی قومی معیار (این اے اے کیو ایس) کے مطابق یہ حد 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں دہلی کا اوسط پی ایم 2.5 اس وقت 109 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جو عالمی معیار سے 7 گنا زیادہ ہے۔

اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ صحت سے متعلق تحقیقی جریدے ’دی لانسٹ‘ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی کے باعث تقریباً 38 لاکھ اموات ہوئیں۔ اسی طرح ’ہاروارڈ یونیورسٹی‘ کی ایک تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 میں ہر 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافے سے شرح اموات میں 8.6 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

موجودہ تشویش حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجئے ماکن نے کہا کہ دہلی میں فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سب سے پہلے عوامی نقل و حمل کے نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، جس میں میٹرو کے مزید توسیعی منصوبے، الیکٹرک بسوں کا اضافہ اور آخری منزل تک رابطہ کی بہتر سہولت شامل ہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی مقامات پر دھول کو قابو میں کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں، جن میں باقاعدہ پانی کا چھڑکاؤ، ملبہ کو ڈھانپ کر رکھنا اور خلاف ورزی پر جرمانے شامل ہوں۔

اجئے ماکن نے یہ بھی تجویز دی کہ شہر میں ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے ’کنجیشن پرائسنگ‘ نافذ کی جائے اور ایسے کوریڈور بنائے جائیں جن میں صرف سائیکل اور پیدل چلنے والوں کو استعمال کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ (این سی اے پی) کے تحت کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر سال دہلی کی فضا مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس منصوبے کے فائدے کیوں نظر نہیں آ رہے؟


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...