دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو کے مطابق بی جے پی حکومت نے ڈیسلٹنگ کا کام کیا ہی نہیں، کیونکہ پی ڈبلیو ڈی نے مکمل ڈیسلٹنگ کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کی تھی، اور مانسون کی آمد کے بعد اس بارے میں کوئی بیان نہیں آیا۔ مانسون کی بارش میں ڈوبتی دہلی نے بی جے پی حکومت کی ڈیسلٹنگ میں ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگر ڈیسلٹنگ ہوئی ہے تو دہلی کے لوگ پانی جمع ہونے سے کیوں پریشان ہیں؟ پانی جمع ہونے کے بعد ڈیسلٹنگ میں ہونے والی بدعنوانی بھی ظاہر ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کریں کہ آخر نالوں سے گاد نکالنے کا کام مکمل کیوں نہیں ہوا؟ جن ٹھیکیداروں اور ایجنسیوں نے گاد نکالنے کا کام کیا ہے، ان کی جانچ ہونی چاہیے۔