
فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا
نئی دہلی: جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں رہنے والی اروناچل پردیش کی تین خواتین کے ساتھ مبینہ نسلی بدسلوکی کے معاملے پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔
نارتھ-ایسٹ ریاستوں کے تین وزرائے اعلیٰ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے ساتھ امتیازی رویہ اب بند ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی ہندوستان کے ہی شہری ہیں۔
وہیں ، اس واقعہ کے پیش آنے کے کئی دن کے بعد بدھ (25 فروری) کو دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی سب کی ہے اور اس معاملے میں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
नॉर्थ ईस्ट की हमारी बहनों के साथ हुई इस घटना की मैं कड़ी निंदा करती हूं और उनके साथ मजबूती से खड़ी हूं।
दिल्ली हर किसी की है। यहां हर नागरिक की गरिमा, सम्मान और सुरक्षा सर्वोपरि है। मैं स्वयं उनसे मिलूंगी। पुलिस पूरी जिम्मेदारी से कानूनी कार्रवाई कर रही है और हम यह सुनिश्चित… pic.twitter.com/7CIRix6bC3
— Rekha Gupta (@gupta_rekha) February 25, 2026
رپورٹ کے مطابق، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ‘جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں رہنے والی اروناچل پردیش کی ہماری تین نوجوان بہنوں کے ساتھ نسلی بدسلوکی کے شرمناک واقعے کی میں شدیدمذمت کرتا ہوں۔ یہ رویہ بالکل ناقابل قبول ہے اور ہمارے معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔’
انہوں نے مزید کہا،’جیسے ہی مجھے کل اس معاملے کی جانکاری ملی، میں نے دہلی پولیس کمشنر سے بات کی اور فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کمشنر ذاتی طور پر میرے رابطے میں ہیں اور مجھے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مجرموں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔’
کھانڈو نے زور دے کر کہا،’ہم اپنی تینوں بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کی حفاظت، عزت اور انصاف ہماری اولین ترجیح ہے۔’
Strongly condemn the shameful incident of racial abuse faced by our three young sisters from Arunachal Pradesh residing in Malviya Nagar, South Delhi. Such behaviour is absolutely unacceptable and has no place in our society.
Immediately after learning about the matter…
— Pema Khandu པདྨ་མཁའ་འགྲོ་། (@PemaKhanduBJP) February 24, 2026
اس سے قبل میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے سوموار کو کہا تھا کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے ساتھ امتیازی رویہ اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے ساتھ امتیاز بند ہونا چاہیے۔
Discrimination against North East People must stop
— Conrad K Sangma (@SangmaConrad) February 22, 2026
وہیں منگل کو ایک اور پوسٹ میں سنگما نے نہ صرف دہلی کے واقعہ، بلکہ گورکھپور کے ایمس میں نگالینڈ کی ایک ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے ساتھ نسلی بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کا بھی ذکر کیا۔
Racial discrimination and sexual harassment of women from the North East should not just be a headline, sensationalized, forgotten and revived every time a fresh incident appears.
The racial and sexual abuse of a resident Doctor of AIIMS Gorakhpur, Uttar Pradesh from Nagaland…
— Conrad K Sangma (@SangmaConrad) February 24, 2026
انہوں نے ایکس پر لکھا،’عورت کی عزت کا پامال ہونا ایک مہذب قوم میں برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ وہ بھی آپ کی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ میں حکام سے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔’
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات صرف خبروں کی زنیت بنا کر بھلائے نہیں جانے چاہیے۔
وہیں،سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے بھی اس واقعہ کو ‘تشویشناک اور افسوسناک’ قرار دیتے ہوئے کہا،’ایسے واقعات ہمیں عزت اور باہمی احترام کی یاد دلاتے ہیں۔ نارتھ-ایسٹ ہمارا لازمی حصہ ہے اور ہر شہری کو عزت، مساوات اور تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔’
The recent incident of racial discrimination involving women from Arunachal Pradesh in New Delhi is concerning and unfortunate. Such instances remind us of the importance of upholding dignity and mutual respect at all times.
The Northeast is an integral part of our nation, and…
— Prem Singh Tamang (Golay) (@PSTamangGolay) February 24, 2026
معلوم ہو کہ جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں نارتھ-ایسٹ کی تین نوجوان خواتین، جن میں سے ایک دہلی یونیورسٹی کی طالبہ بھی ہے، کے ساتھ مبینہ نسلی بدسلوکی اور دھمکی کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعداس معاملے نے طول پکڑ لیا۔
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ اتوار (22 فروری) کو پیش آیا۔ لڑکیوں نے الزام لگایا کہ جب وہ اپنے کرایہ کے گھر میں بجلی کا کچھ کام کروا رہی تھیں، تو ان کے نیچے رہنے والے جوڑے نے اس سے اڑنے والے دھول کے معاملے پر ہوئے جھگڑے کے دوران انہیں دھمکایا اور نسلی تبصرہ کیا۔
اس واقعہ کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا، جس میں ایک عورت تین لڑکیوں کے خلاف توہین آمیز اور نسلی تبصرے کرتے ہوئے سنائی دے رہی ہے۔ وہ انہیں دھمکی دیتی ہیں کہ ‘مجھ سے پنگا مت لینا’ کیونکہ ان کا شوہر ایک ‘افسر’ کا بیٹا ہے۔ اس کے بعد وہ انہیں ڈنڈے سے پیٹنے کی دھمکی بھی دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم خاتون ایک مرد کے ساتھ سیڑھیوں پر کھڑی ہے۔ وہ مبینہ طور پر نارتھ-ایسٹ کی خواتین کے لیے ‘گٹر-چھاپ’ اور ‘نارتھ ایسٹرن لوگ گندے ہوتے ہیں’ جیسےتضحیک آمیز الفاظ استعمال کرتی نظر آتی ہیں ۔ وہ مبینہ طور پر ان تین لڑکیوں کے بارے میں نسلی تبصرے بھی کرتی ہے اور انہیں ‘مومو بیچنے والی’ اور ‘500 روپے میں مساج پارلر میں کام کرنے والی کہہ رہی ہیں۔
ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان تین لڑکیوں میں سے ایک سول سروس کی تیاری کر رہی ہیں اور انہوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے دھول گرنے کے معاملے پر ملزم جوڑے سےمعافی مانگی تھی، پھر بھی انہوں نے نسلی اور توہین آمیز تبصرے جاری رکھےاور بحث ذاتی کی نوعیت ہو گئی۔ وہ لوگ بنیادی مسئلے پر بات کرنے کے بجائے، شمال- مشرق کو نشانہ بنانےلگے۔’
دہلی پولیس نے ملزموں کو گرفتار کیا
اس معاملے میں شکایت پر مالویہ نگر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائےسنہتاکی دفعات کے تحت خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچانے، مجرمانہ طور پر دھمکی دینے اور کمیونٹی کے درمیان ارادے کے ساتھ دشمنی پیدا کرنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
تاہم، میڈیا رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے ملزم جوڑے روبی جین اور ہرش سنگھ کو ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے۔
اس سلسلے میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جانکاری دی کہ معاملے میں گرفتاری ہو گئی ہے اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
The lady who insulted & abused our 3 Arunachalee girls in Malviya Nagar, New Delhi has been arrested. Stringent action will be taken as per law. The male has also been booked. The necessary Charge Sheet will be filled at the earliest. pic.twitter.com/qkw3FqG9Pe
— Kiren Rijiju (@KirenRijiju) February 25, 2026
اس سے قبل کانگریس ایم پی گورو گگوئی نے اس مبینہ بدسلوکی کو ‘انتہائی پریشان کن اور ناقابل قبول’ قرار دیا تھا۔
انہوں نےایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا،’دہلی میں اروناچلی خواتین کے ساتھ نسلی بدسلوکی انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے۔ کسی بھی شہری کو اپنے ہی ملک میں اجنبی محسوس نہیں کرایا جانا چاہیے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے خلاف تعصب آج بھی موجود ہے۔’
The racist abuse faced by Arunachali women in Delhi is deeply disturbing and unacceptable. No citizen should be made to feel alien in their own country. This incident is a stark reminder that prejudice against people from the North-East still persists.
This incident cannot be…
— Gaurav Gogoi (@GauravGogoiAsm) February 24, 2026
انہوں نے کہا تھا،’اس واقعے کو معمولی تنازعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے، قانون کے تحت جوابدہی یقینی بنانی چاہیے اور شکایت کنندگان کو مکمل تحفظ اور مدد فراہم کرنی چاہیے۔ مساوی شہریت کا مطلب ہے کہ ملک کے ہر حصے میں یکساں عزت اور تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔’
اسی طرح منی پور کے اندرونی انتخانی حلقہ سے کانگریس رکن پارلیامنٹ اے بمول اکوئزیم نے پی ٹی آئی کو بتایا،’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سخت کارروائی کی جائے۔ اگرچہ یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مثالی کارروائی کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں اس طرح کے رویے کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔’
سکم کے رکن پارلیامنٹ اندرا ہینگ سبا نے دہلی پولیس کو لکھے خط میں کہا،’یہ واقعہ محض پڑوسیوں کے درمیان تنازعہ نہیں، بلکہ نسل پرستانہ دشمنی اور ثقافتی توہین کا سنگین عمل ہے۔’
سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے شمال مشرقی کو ‘لازمی حصہ’ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات ہمیں ہر وقت وقار اور باہمی احترام قائم رکھنے کی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔ ہر شہری وقار، مساوات اور عزت کا حق رکھتا ہے۔





